مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

0
16
مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد: ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کے تحت پاکستانی فوجی اہلکار سعودی عرب میں موجود ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی کوئی نیا معاملہ نہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے دفاعی روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور پاکستانی دستے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مکہ دفاعی اتحاد کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی، سیاسی اور عسکری تعلقات کا تسلسل قرار دیا۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی دارالحکومت ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے رکن ممالک کی دفاعی صلاحیتوں اور فوجی تعاون کو فوری طور پر مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران پاکستانی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیے جانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وہ تین سال کے لیے اس ذمہ داری پر فائز ہوں گے۔

ریاض اجلاس میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کے علاوہ یمن کے تنازع کے سفارتی اور پُرامن حل کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے رواں سال اگست میں دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

تینوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو بعد ازاں ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ کا نام دیا گیا، جس کا مقصد مشترکہ دفاعی تعاون اور باہمی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

Leave a reply