اسلام آباد پر حملہ ہوا تو دفاع کریں گے، گورنر راج آخری آپشن ہے: خواجہ آصف

0
35
اسلام آباد پر حملہ ہوا تو دفاع کریں گے، گورنر راج آخری آپشن ہے: خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج حکومت کی ترجیح نہیں بلکہ آخری آئینی راستہ ہوگا، تاہم حالات نے مجبور کیا تو تمام قانونی و آئینی آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت دارالحکومت کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔ ان کے مطابق اسلام آباد پر حملے یا زبردستی پیش قدمی کی صورت میں حکومت کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہر چند ماہ بعد احتجاج یا لشکر کشی کے انداز میں دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کو معمول نہیں بننے دیا جاسکتا۔ انکے بقول حکومت موجودہ صورت حال کاجائزہ لیرہی ہے اور کوشش ہے کہ گورنرراج کےمرحلے تک نوبت نہ پہنچے۔

خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے مسئلے سے مؤثر انداز میں نہ نمٹنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت اور طالبان کے درمیان روابط سے متعلق شواہد موجود ہیں، تاہم یہ الزامات متعلقہ فریق کی جانب سے تصدیق طلب ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ صوبائی حکومت سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام کو بدامنی اور دہشت گردی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

انہوں نے حالیہ ڈی آئی خان واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 6 اکتوبر کو دہشت گرد حملے میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں دو کسٹمز اہلکار بھی شامل تھے۔ خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت نے واقعے پر وہ ردعمل نہیں دیا جو ایک سنگین دہشت گردی کے واقعے کے بعد متوقع تھا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وفاق کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں اہم فیصلوں کا وقت آگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک صوبے کو سیاسی تنازع یا بدامنی کے باعث یرغمال نہیں بنایا جاسکتا اور ملک کی وحدت کو نقصان پہنچانے والی صورتحال برداشت نہیں کی جائے گی۔

اسلام آباد میں زبردستی داخل نہیں ہونے دیں گے: طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں کسی بھی قسم کی زبردستی پیش قدمی کی اجازت نہیں دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں صوبائی حکومت کی انتظامی گرفت سے متعلق سوالات موجود ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت عمران خان کی دیکھ بھال اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

طارق فضل چوہدری نے چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کو آئینی معاملہ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ

وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کیا تھا۔ ابتدائی طور پر مارچ کے لیے 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم مذاکرات کے بعد اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔

مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، سیکیورٹی معاملات اور عمران خان تک رسائی سمیت مختلف امور زیر بحث آئے، لیکن فریقین کسی حتمی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے۔

پی ٹی آئی کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں مارچ کا آغاز لکی مروت کے گنڈی چوک سے ہوا۔ مختلف جنوبی اضلاع سے کارکنوں کے قافلے اس میں شریک ہوئے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور مظاہرین کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی و انتظامی کشیدگی برقرار ہے، جبکہ وفاق کی جانب سے گورنر راج سمیت مختلف آئینی و قانونی راستوں پر غور کیے جانے کے اشارے دیے گئے ہیں۔

Leave a reply