معاہدہ ہوجاتا تو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہ ہوتی، محسن نقوی

0
24
معاہدہ ہوجاتا تو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہ ہوتی، محسن نقوی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاہے کہ خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق حکومتی اقدامات آئین کیمطابق کیے گئے۔ انکا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کے آخری مرحلے میں معاہدہ طے پا جاتا تو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

سینیٹ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ ان کے مطابق بات چیت کے دوران چھ ترامیم کی تجاویز قبول کی گئیں اور مجوزہ معاہدے کا مسودہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھی فراہم کیا گیا، تاہم آخری مرحلے میں اتفاق رائے قائم نہ ہوسکا۔

وزیر داخلہ نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار پی ٹی آئی قیادت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے بھی حکومتی نمائندے رابطوں میں مصروف رہے۔

محسن نقوی نے بتایا کہ 10 تاریخ کو بیرسٹر گوہر سے بھی رابطہ کیا گیا تھا تاکہ مجوزہ معاہدے کے چوتھے پیراگراف میں مطلوبہ ترمیم کے بارے میں وضاحت حاصل کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔ ان کے بقول، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں اہلکاروں کی جانیں داؤ پر لگی ہیں، اس لیے سیکیورٹی کے معاملے پر مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

آئینی طریقہ کار کے تحت اقدامات کا مؤقف

وزیر داخلہ نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئین میں درج طریقہ کار کی پابندی کی ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے متعلقہ آئینی شقوں کا جائزہ لیا اور حکومتی اقدام کو آئینی دائرے میں رکھنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی فریق کو لگتا ہے کہ آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو وہ آئینی ماہرین کے ذریعے اس کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ محسن نقوی کے مطابق حکومت کے پاس 26 نومبر کو بھی یہ راستہ اختیار کرنے کا اختیار موجود تھا، لیکن اس وقت مذاکرات کو ترجیح دی گئی۔

دہشت گردی اور افغانستان سے متعلق دعوے

محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کی بڑی تعداد افغانستان سے آتی ہے۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ ایسے افراد کا تناسب تقریباً 80 فیصد ہے، تاہم اجلاس میں اس دعوے کے حق میں تفصیلی اعدادوشمار پیش کیے جانے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے روابط کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ مناسب وقت آنے پر اس حوالے سے شواہد سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے بعض حکومتی افراد کے طالبان سے مبینہ تعلقات اور مالی لین دین سے متعلق معلومات ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔

مراد سعید پر مذاکرات ناکام بنانے کا الزام

محسن نقوی نےیہ الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی مذاکرات کے معاملے پر فیصلہ نہیں کر رہے تھے، جبکہ مراد سعید نے بات چیت کو ناکام بنانے میں اہمکردار ادا کیا۔ انکے مطابق صوبائی کابینہ کے بعض ارکان نے بھی اس صورت حال پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کو صوبے میں درپیش مشکلات کا احساس ہے، لیکن سیکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ بھی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

Leave a reply