
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک نے اپنے دو جدید اے آئی ماڈلز تک غیر ملکی صارفین کی رسائی محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدام امریکی حکومتی ہدایت کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس میں سیکیورٹی خدشات کے باعث مخصوص جدید ماڈلز کی دستیابی روکنے کا کہا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے ایک برآمدی کنٹرول ہدایت جاری کی ہے جس کے تحت کمپنی کو اپنے دو ماڈلز “فیبل فائیو” اور “مائتھوس فائیو” تک غیر ملکی صارفین کی رسائی فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت دی گئی۔ تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے اس فیصلے کی مکمل اور واضح وجوہات فراہم نہیں کی گئیں۔
اینتھروپک نے بتایا کہ حکام کو خدشہ ہے کہ ان ماڈلز میں ایسی کمزوریاں موجود ہو سکتی ہیں جنہیں حفاظتی نظام توڑنے یا “جیل بریکنگ” کے ذریعے غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ان ماڈلز کو سافٹ ویئر سیکیورٹی کمزوریاں تلاش کرنے یا سائبر حملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کمپنی نے اس مؤقف پر اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہر ممکن خطرے یا کمزوری کی بنیاد پر جدید اے آئی ماڈلز کو محدود کیا جائے تو نئی ٹیکنالوجی کی ترقی اور ریلیز تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔ ان کے مطابق فیصلہ غیر واضح اور غیر متوازن محسوس ہوتا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ کمپنی کو زبانی طور پر محدود نوعیت کے سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا گیا ہے، تاہم کسی ٹھوس شواہد کی فراہمی نہیں کی گئی۔
اینتھروپک کے مطابق یہ پابندی صرف دو ماڈلز تک محدود ہوگی جبکہ دیگر خدمات بدستور جاری رہیں گی۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکام سے بات چیت کر کے رسائی بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔
اطلاعات کے مطابق اس معاملے میں کمپنی اور امریکی اداروں کے درمیان پہلے بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور پر فوجی استعمال اور خودکار ہتھیاروں سے متعلق ٹیکنالوجی کے حوالے سے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز اگر غلط ہاتھوں میں پہنچ جائیں تو انہیں سائبر حملوں اور حساس نظاموں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر سیکیورٹی خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
کمپنی نے حال ہی میں اپنے نئے ماڈلز کو “نیکسٹ جنریشن” اے آئی سسٹمز کے طور پر متعارف کرایا تھا، جنہیں زیادہ طاقتور اور بہتر صلاحیتوں کا حامل قرار دیا جا رہا تھا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کو ترجیح دینا ضروری ہے، اور بعض اوقات کاروباری مفادات کے مقابلے میں حفاظتی اقدامات زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
کمپنی نے اس فیصلے کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صورتحال کو جلد معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔









