
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسی اہم بحری گزرگاہوں میں ممکنہ خطرات کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5 فیصد اضافے کے بعد 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی تقریباً 89 ڈالر فی بیرل کےقریب پہنچ گئی۔ بعد ازاں قیمتوں میں کچھ کمی ہوئی، تاہم مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بلندسطح پربرقرار رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکا میں بھی ایندھن کی قیمتوں اور قرضوں کی شرح سود پر اس کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق رواں ماہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی بحری راستوں کی سکیورٹی سے متعلق خدشات ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ سفارتی راستے کھلے رکھنے کے خواہاں ہیں، تاہم خطے میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ دوسری جانب ایرانی حکام کے مطابق اس وقت باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ممکن ہے۔
عالمی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا انحصار خطے کی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔









