
دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، کے آغاز سے قبل ہی ٹکٹوں کی بلند قیمتیں اور سفری مسائل بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ پہلی بار تین ممالک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر اس عالمی ٹورنامنٹ کی میزبانی کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق رواں ورلڈ کپ کے ٹکٹ گزشتہ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں طور پر مہنگے ہیں۔ فیفا نے اس بار روایتی مقررہ قیمتوں کے بجائے “ڈائنامک پرائسنگ” نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت طلب میں اضافے کے ساتھ ٹکٹوں کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس نظام کے باعث ایک ہی میچ اور ایک جیسی نشستوں کے لیے مختلف شائقین مختلف قیمتیں ادا کر سکتے ہیں۔
قطر میں منعقدہ 2022 کے ورلڈ کپ میں سب سے سستا ٹکٹ تقریباً 11 ڈالر کا تھا، جبکہ 2026 کے ٹورنامنٹ میں ابتدائی درجے کے ٹکٹ بھی 100 ڈالر یا اس سے زائد قیمت پر دستیاب ہیں۔ بعض پریمیم ٹکٹوں کی قیمت کئی ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
شائقین کی مختلف تنظیموں نے ٹکٹوں کی قیمتوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام فٹبال مداحوں کے لیے اسٹیڈیم میں میچ دیکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بعض تنظیموں نے فیفا کی ٹکٹ پالیسی کے خلاف باقاعدہ شکایات بھی جمع کرائی ہیں۔
ٹکٹوں کے علاوہ سفری اخراجات بھی شائقین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ چونکہ میچز تین مختلف ممالک میں کھیلے جائیں گے، اس لیے کئی مداحوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرنے، اضافی ویزوں اور مہنگی پروازوں کے اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
کچھ ممالک کے شہریوں کو ویزا کے حصول میں مشکلات کا سامنا بھی درپیش ہے، جس کے باعث کئی ایسے شائقین جو ٹکٹ خرید چکے ہیں، اپنی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کے لیے سفر کرنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب فیفا کے اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں ٹکٹ سرمایہ کاروں اور ری سیل مارکیٹ سے وابستہ افراد نے خریدے ہیں، جو بعد میں انہیں زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ری سیل مارکیٹ میں موجود ٹکٹ فروخت نہ ہو سکے تو ٹورنامنٹ کے بعض میچوں میں خالی نشستیں بھی دیکھنے کو مل سکتی ہیں، جو ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ کے لیے غیر معمولی صورتحال ہوگی۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز کے ساتھ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا شائقین کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات دور ہو پاتے ہیں یا نہیں، اور آیا دنیا کا مقبول ترین کھیل اپنے عام مداحوں کی پہنچ میں برقرار رہتا ہے۔









