غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد میں رکاوٹ، 8 مسلم ممالک کی اسرائیل پر کڑی تنقید

0
17
غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد میں رکاوٹ، 8 مسلم ممالک کی اسرائیل پر کڑی تنقید

پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ سے متعلق جامع امن منصوبے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

بیان کے مطابق غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد سے انکار خطے میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ مسلم ممالک نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے امن عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے نتائج کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی۔

مشترکہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ میں جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تمام فریقوں کو جامع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔

آٹھوں ممالک نے غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے، سیکیورٹی اور استحکام کے قیام، جبکہ علاقے کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے جامع اقدامات فوری طور پر شروع کرنے پر زور دیا۔

بیان میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے حق کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے یا مسترد کرنے کی کوششیں قابل قبول نہیں۔

مسلم ممالک نے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانے کی حمایت بھی دہرائی۔ ان کے مطابق دو ریاستی حل ہی خطے میں منصفانہ، دیرپا اور پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں بورڈ آف پیس کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے غزہ روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ بیان میں امریکا کی فعال حمایت اور شمولیت کے ساتھ جامع منصوبے پر عملدرآمد یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

آٹھ مسلم ممالک نے تمام متعلقہ فریقوں سے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی پیش رفت میں تعاون کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Leave a reply