
ملک بھر میں جاری شدید گرمی کے باعث اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ہیٹ اسٹروک کی صورت میں عام بخار کی دوا پیراسیٹامول استعمال کرنا فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق عام بخار اور ہیٹ اسٹروک ایک جیسی کیفیت نہیں ہیں۔ بخار عموماً کسی انفیکشن یا بیماری کے باعث ہوتا ہے، جس میں پیراسیٹامول دماغ کے اس حصے پر اثر ڈالتی ہے جو جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن ہیٹ اسٹروک میں مسئلہ جسم کے قدرتی کولنگ سسٹم کے ناکارہ ہو جانے کا ہوتا ہے، اس لیے صرف دوا دینے سے مریض کی حالت بہتر نہیں ہوتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں بعض افراد گرمی سے نڈھال ہو جاتے ہیں، جس میں زیادہ پسینہ آتا ہے، کمزوری محسوس ہوتی ہے اور جسم میں پانی و نمکیات کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں فوری طور پر او آر ایس، نمکول یا نمک ملے پانی کا استعمال مفید رہتا ہے۔
تاہم ہیٹ اسٹروک اس سے کہیں زیادہ خطرناک کیفیت ہے۔ اس دوران جسم پسینہ بنانا بند کر دیتا ہے، جلد خشک اور گرم ہو جاتی ہے جبکہ جسمانی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو مریض بے ہوش ہو سکتا ہے یا جان سے بھی ہاتھ دھو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک کی صورت میں سب سے ضروری کام مریض کے جسم کو فوری ٹھنڈا کرنا ہے۔ مریض کو فوراً سایہ دار یا ٹھنڈی جگہ منتقل کیا جائے، ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے اور گردن، بغلوں اور رانوں کے جوڑوں پر برف یا ٹھنڈی پٹیاں رکھی جائیں تاکہ جسم کا درجہ حرارت جلد کم ہو سکے۔
اگر مریض ہوش میں ہو تو اسے تھوڑا تھوڑا پانی پلایا جا سکتا ہے، لیکن بے ہوش شخص کے منہ میں کچھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ ابتدائی طبی امداد کے بعد مریض کو فوری اسپتال منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ ہیٹ اسٹروک ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے۔
ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، ہلکے اور سوتی کپڑے پہنیں اور وقفے وقفے سے پانی، لسی یا لیموں پانی کا استعمال جاری رکھیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔








