
سوشل میڈیا پر ان دنوں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ فلموں کی ایک نئی لہر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ ان ویڈیوز اور شارٹ فلموں کی بصری کوالٹی اس قدر جدید اور حقیقت کے قریب ہوتی ہے کہ عام ناظر کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ کسی کیمرے سے فلمائی گئی ہے یا مکمل طور پر کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعے تخلیق کی گئی ہے۔
ان میں سے ایک حالیہ وائرل پروجیکٹ ’’دی پیچ رائٹ‘‘ خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس فلم میں ایک دیوہیکل شیر کو جدید مشینری سے منسلک انداز میں دکھایا گیا ہے، جس کا انداز بالکل ہالی ووڈ کے سپر ہیرو کائنات جیسے مناظر کی یاد دلاتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مکمل پروجیکٹ جدید اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، جس نے ڈیجیٹل فلم سازی کی صلاحیتوں کو ایک نئی سمت دی ہے۔
فلم میں دکھایا گیا مستقبل کا تصور ایک ایسی دنیا پر مبنی ہے جہاں ہر جاندار اور مشین جدید ٹیکنالوجی سے جڑے ہوئے ہیں اور غیر معمولی انداز میں حرکت کرتے ہیں۔ اس طرح کے مناظر نے یہ بحث دوبارہ چھیڑ دی ہے کہ اب جدید اے آئی سافٹ ویئرز کی مدد سے کوئی بھی شخص اپنے گھر بیٹھ کر فلم ساز بننے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔
فلمی حلقوں میں اس رجحان پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بالی ووڈ کے ہدایت کار Amit Rai کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے، فلم کی اصل روح انسانی جذبات اور کہانی سنانے کے فن میں ہی پوشیدہ رہتی ہے۔ ان کے مطابق ناظرین اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ پردے پر دکھایا گیا منظر حقیقی نہیں، مگر وہ اسے اس لیے قبول کرتے ہیں کیونکہ اس کے پیچھے ایک انسان کی اداکاری اور محنت شامل ہوتی ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کمپیوٹر سے بنا کردار خطرناک اسٹنٹس انجام دے تو وہ شاید اتنا متاثر کن نہ ہو، جتنا کہ کسی حقیقی اداکار جیسے Jackie Chan کی کارکردگی ہوتی ہے، جس میں انسانی خطرہ اور مہارت شامل ہوتی ہے۔
دوسری جانب کچھ فلم ساز اس نئی ٹیکنالوجی کو ایک مددگار ٹول کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسٹوڈیو بلو کے سی ای او Deepak Mukherjee کا کہنا ہے کہ اے آئی اب فلم سازی کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے اور بڑے اسٹوڈیوز اسے تیزی سے اپنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جذبات پیدا کرنا ہمیشہ ہدایت کار کی تخلیقی صلاحیت پر منحصر ہوتا ہے، چاہے وہ روشنی ہو، آواز ہو یا بصری اثرات۔
اسی طرح فلمی بصری اثرات کے ماہر Arpan Guglani کا کہنا ہے کہ صرف جدید سافٹ ویئرز سیکھ لینا کسی کو فلم ساز نہیں بنا دیتا، جیسے صرف ڈیزائننگ ٹولز جان لینے سے کوئی معمار نہیں بن جاتا۔ ان کے مطابق کہانی سنانے کی صلاحیت اور تجربہ ہی اصل تخلیقی بنیاد ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی صرف ایک معاون کردار ادا کرتی ہے۔
تاہم اس بحث کے دوسرے رخ پر کچھ بڑے نام اس ٹیکنالوجی پر تنقید بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ معروف ہدایت کار اور آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز Guillermo del Toro نے حالیہ فلمی تقریب میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلمی فن میں انسانی لمس اور جذبات کی جگہ کسی مشین سے نہیں لی جا سکتی۔
مجموعی طور پر فلم انڈسٹری اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف اے آئی نئی تخلیقی امکانات کے دروازے کھول رہا ہے، تو دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ سچی اور اثر انگیز فلم سازی اب بھی انسانی احساس، تجربے اور کہانی کے بغیر ممکن نہیں۔









