قدرت کے خاموش ریاضی دان: ایک عام پودے میں چھپا حیران کن سائنسی راز

0
4
قدرت کے خاموش ریاضی دان: ایک عام پودے میں چھپا حیران کن سائنسی راز

قدرت اپنے اندر ایسے بے شمار راز سموئے ہوئے ہے جنہیں سمجھنے کے لیے انسان کو طویل سائنسی سفر طے کرنا پڑا۔ حالیہ تحقیق نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ کائنات میں موجود زندگی محض اتفاق نہیں بلکہ نہایت منظم اصولوں کے تحت کام کرتی ہے۔
امریکا کے تحقیقی ادارے Cold Spring Harbor Laboratory کے سائنسدانوں نے ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ گھروں میں سجاوٹ کے لیے رکھا جانے والا مشہور پودا Pilea peperomioides اپنے پتوں میں پیچیدہ ریاضیاتی نظام رکھتا ہے۔
یہ پودا، جسے عام طور پر “چائنیز منی پلانٹ” کہا جاتا ہے، اپنے پتوں کی اندرونی ساخت میں ایسا قدرتی نظام استعمال کرتا ہے جسے جدید ریاضی میں “ورونوئی ڈایاگرام” کہا جاتا ہے۔ یہی اصول آج شہری منصوبہ بندی، کمپیوٹر نیٹ ورکس اور خلائی تحقیق جیسے جدید شعبوں میں استعمال ہو رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق پودے کے پتوں پر موجود ننھے مسام، جنہیں ہائیڈاتھوڈز کہا جاتا ہے، اضافی پانی خارج کرتے ہیں۔ ان مساموں کے اردگرد پھیلی رگیں اس انداز سے ترتیب پاتی ہیں کہ ہر حصہ اپنے قریب ترین مسام سے جڑا رہے، تاکہ پانی اور غذائیت کم سے کم فاصلے اور زیادہ مؤثر طریقے سے منتقل ہو سکے۔
سائنسدانوں نے جب ان رگوں اور مساموں کا تفصیلی نقشہ تیار کیا تو معلوم ہوا کہ پورا نظام حیرت انگیز حد تک ورونوئی ڈایاگرام کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کی مضبوط مثال ہے کہ قدرت بغیر کسی شعوری دماغ یا پیمائشی آلات کے بھی نہایت پیچیدہ مسائل کا حل پیدا کر لیتی ہے۔ پودے صرف مقامی حیاتیاتی تعاملات کے ذریعے ایسا مربوط نظام تشکیل دیتے ہیں جو انسانی انجینئرنگ سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق مستقبل میں حیاتیات، کمپیوٹر سائنس اور ریاضی کے درمیان تعلق کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ سائنسدان امید ظاہر کر رہے ہیں کہ قدرت کے یہ پوشیدہ الگورتھم آنے والے وقت میں نئی ٹیکنالوجیز اور ذہین نظاموں کی تیاری میں بھی رہنمائی فراہم کریں گے۔

Leave a reply