سونے کے زیورات اور پارے کا خطرناک تعلق — ماہرین کی وارننگ

0
11
سونے کے زیورات اور پارے کا خطرناک تعلق — ماہرین کی وارننگ

جنوبی ایشیائی معاشروں میں سونا صرف ایک قیمتی دھات نہیں بلکہ خاندانی ورثے، جذبات اور مالی تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ زیورات اکثر نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں اور ان کی جذباتی و مالی قدر وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جاتی ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایک معمولی سی کیمیائی آلودگی بھی سونے کے زیورات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، خاص طور پر پارہ (Mercury)۔
سائنسی ماہرین کے مطابق سونا عام حالات میں ایک غیر فعال دھات ہے اور ہوا یا نمی سے متاثر نہیں ہوتا، لیکن اگر اس کا رابطہ پارے سے ہو جائے تو ایک خطرناک کیمیائی عمل شروع ہو جاتا ہے جسے املگمیشن کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران پارہ سونے کے ذرات میں داخل ہو کر اس کی ساخت کو کمزور کر دیتا ہے۔
نتیجتاً زیور اپنی چمک کھو دیتا ہے، اس پر سفید یا سرمئی نشان ظاہر ہونے لگتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہ کمزور ہو کر ٹوٹنے لگتا ہے، جس سے اس کی اصل قدر بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹوٹے ہوئے تھرمامیٹر، پرانی طبی مشینیں، بعض بیٹریاں اور کچھ کاسمیٹک یا ادویاتی مصنوعات میں موجود پارہ بھی اس نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ صرف ایک چھوٹا سا قطرہ بھی قیمتی زیور کو ناقابلِ استعمال بنا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ ماہرین نے سختی سے خبردار کیا ہے کہ اگر سونے پر پارہ گر جائے تو اسے آگ پر گرم کرنے کی کوشش ہرگز نہ کی جائے، کیونکہ اس سے زہریلا دھواں پیدا ہو سکتا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور پھیپھڑوں، دماغ اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زیور پر سفید دھبے ظاہر ہوں یا پارے کی آلودگی کا شبہ ہو تو اسے خود صاف کرنے کے بجائے فوری طور پر ماہر سنار کے پاس لے جانا چاہیے، جہاں مخصوص طریقہ کار کے ذریعے نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔
گھروں میں پارے والے تھرمامیٹرز کے بجائے ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو ترجیح دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ اس خطرے سے بچا جا سکے۔ اسی طرح سونے کے زیورات کو ادویات، بیٹریوں اور کیمیائی اشیاء سے دور محفوظ جگہ پر رکھنا بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ خالص سونا اپنی حالت برقرار رکھتا ہے، لیکن زیورات میں شامل دیگر دھاتیں وقت کے ساتھ آکسیڈیشن کا شکار ہو سکتی ہیں، تاہم پارے کی موجودگی ایک غیر معمولی اور زیادہ خطرناک صورتحال پیدا کرتی ہے۔
آخر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی سی آگاہی اور احتیاط قیمتی زیورات کو بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے اور نسلوں کی یہ قیمتی امانت محفوظ رہ سکتی ہے۔

Leave a reply