سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات متوقع، پاکستانی قیادت بھی شریک ہوگی

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی کوششوں کے سلسلے میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔ مختلف ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد خطے میں استحکام، سیکیورٹی اور باہمی تنازعات کے حل کے لیے پیش رفت حاصل کرنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ مذاکراتی عمل کے دوران مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔
امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف سمیت دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی سوئٹزرلینڈ پہنچنے والے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وفد میں متعدد سینئر حکام شامل ہیں جن کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، علی باقری، عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی بھی شامل ہیں۔
روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے حوالے سے مثبت توقعات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تعمیری پیش رفت کی امید ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امن عمل کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں استحکام اور تجارتی راستوں کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان نے حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ ہفتوں میں ایران کے متعدد دورے کیے، جہاں انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے نتائج مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی کوششوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔









