سعودی عرب میں حملوں کے بعد امریکا کا غیر ضروری سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم

0
11
سعودی عرب میں حملوں کے بعد امریکا کا غیر ضروری سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم

سعودی عرب میں سیکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے خدشات کے پیش نظر امریکا نے اپنے سفارتی مشنز میں تعینات غیر ضروری سرکاری اہلکاروں اور انکے اہلِ خانہ کو فوری طور پرملک چھوڑنیکی ہدایت جاری کردی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب میں شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

حالیہ حملوں کے دوران دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ایک آئل فیلڈ کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ دس افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پیگوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سعودی عرب سے غیر ضروری امریکی سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کی روانگی کی تصدیق کی۔

اطلاعات کے مطابق خلیجی خطے کے دیگر ممالک میں قائم امریکی سفارتی مشنز کے اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو بھی واپس بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ شروع ہونے والے تنازع کے دوران بھی خطے میں امریکی سفارتی عملے کی نقل و حرکت محدود کی گئی تھی۔ حالات میں بہتری کے بعد بعض اہلکاروں کو دوبارہ تعینات کیا گیا، تاہم تازہ کشیدگی نے ایک بار پھر سیکیورٹی خدشات بڑھا دیے ہیں۔

سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اہم تنصیبات اور شہری مقامات کی سیکیورٹی سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

نوٹ: اشاعت سے قبل ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد، حملوں کی ذمہ داری اور امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کی تازہ ترین سرکاری ذرائع سے تصدیق کر لیں۔

Leave a reply