
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پمز میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
پارلیمانی سیکریٹری دانیال چوہدری نے سانحہ پمز سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد میں واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ تحقیقات مکمل کرکے غفلت کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ سانحے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، جبکہ تفصیلی رپورٹ سات روز میں مکمل کی جائے گی۔ ان کے مطابق تحقیقات کی روشنی میں آئندہ ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو 50،50 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی، تاہم مالی معاونت انسانی جان کے نقصان کا ازالہ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی پر زور دیا۔
ادھر سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر سعدیہ عباسی نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری اور سانحے سے متعلق حکومت پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی کے عمل میں وہ خود بورڈ کا حصہ تھیں اور انہوں نے اس تقرری کی مخالفت کی تھی۔
سعدیہ عباسی نے دعویٰ کیا کہ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انتہائی بااثر ہیں اور اسی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے واقعے میں مبینہ غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی اور ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔
سینیٹ نے بھی سانحہ پمز کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی تحریک منظور کرلی۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کو دی جائے تاکہ تحقیقات پر عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ میں کہا کہ وہ پمز واقعے کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس تحقیقاتی رپورٹ چھپانے یا کسی فرد کو تحفظ دینے کا کوئی ارادہ نہیں اور معاملے کی حقیقت سامنے لائی جائے گی۔









