
بعض افراد کو عام موسم میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ سردی محسوس ہوتی ہے، جبکہ ان کے ہاتھ اور پاؤں بھی اکثر ٹھنڈے رہتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اس کیفیت کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں وٹامن بی 12 کی کمی، خون کی کمی، تھائیرائیڈ کی خرابی اور جسمانی وزن کا کم ہونا شامل ہیں۔
وٹامن بی 12 کی کمی اور سردی کی حساسیت
وٹامن بی 12 جسم میں سرخ خون کے خلیات کی تیاری اور اعصابی نظام کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اس وٹامن کی کمی خون کی کمی کا سبب بن سکتی ہے، جس سے تھکن، کمزوری، چکر آنے اور بعض اوقات ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
گوشت، مچھلی، انڈے، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا وٹامن بی 12 کے اہم ذرائع ہیں۔ سبزیوں پر زیادہ انحصار کرنے والے افراد اور ایسے لوگ جنہیں غذائی اجزا جذب کرنے میں دشواری ہو، اس وٹامن کی کمی کا زیادہ سامنا کر سکتے ہیں۔
وٹامن ڈی بھی ہڈیوں، پٹھوں اور مدافعتی نظام کے لیے اہم ہے، تاہم صرف زیادہ سردی محسوس ہونے کو اس وٹامن کی کمی کی واضح علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔
خون کی کمی بھی ہو سکتی ہے وجہ
خون میں موجود ہیموگلوبن جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ آئرن کی کمی سے ہیموگلوبن کی سطح متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تھکن، کمزوری، سانس پھولنے اور سردی زیادہ محسوس ہونے کی شکایات سامنے آ سکتی ہیں۔
آئرن کے حصول کے لیے گوشت، دالیں، چنے، لوبیا اور سبز پتوں والی سبزیاں مفید ہیں۔ لیموں، امرود اور دیگر وٹامن سی سے بھرپور غذائیں پودوں سے حاصل ہونے والے آئرن کو جسم میں جذب کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
تھائیرائیڈ کی کم کارکردگی کو نظرانداز نہ کریں
تھائیرائیڈ غدود ایسے ہارمون بناتا ہے جو جسم کے میٹابولزم اور توانائی کے استعمال کو منظم کرتے ہیں۔ جب یہ غدود ضرورت کے مطابق ہارمون پیدا نہ کرے تو اس کیفیت کو ہائپوتھائیرائیڈزم کہا جاتا ہے۔
اس مسئلے میں مبتلا افراد کو معمول سے زیادہ سردی لگ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وزن میں اضافہ، قبض، جلد کی خشکی اور مسلسل تھکن بھی اس کی ممکنہ علامات ہیں۔ ایسی علامات برقرار رہنے کی صورت میں ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔
کم وزن بھی سردی زیادہ لگنے کا سبب بن سکتا ہے
جسمانی چربی حرارت کو محفوظ رکھنے اور جسم کو ٹھنڈ سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ جن افراد کا وزن بہت کم ہو یا جسم میں چربی کی مقدار کم ہو، انہیں بعض اوقات دوسروں کے مقابلے میں زیادہ سردی محسوس ہوتی ہے۔
سردی سے بچاؤ کے لیے کون سی غذائیں مفید ہیں؟
متوازن غذا جسم کو توانائی فراہم کرنے اور مجموعی صحت بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سرد موسم میں درج ذیل غذائیں خوراک کا حصہ بنائی جا سکتی ہیں:
– جئی، باجرہ اور بھورے چاول: جسم کو کاربوہائیڈریٹس اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔
– شکرقندی، آلو اور گاجر: روزمرہ خوراک میں توانائی اور اہم غذائی اجزا شامل کرتے ہیں۔
– خشک میوہ جات اور مناسب مقدار میں صحت مند چکنائیاں: توانائی اور ضروری چکنائی فراہم کرتی ہیں۔
– ادرک، لہسن اور دیگر مصالحے: کھانے کا ذائقہ بڑھاتے ہیں، تاہم ان سے سردی کی بنیادی طبی وجوہات کا علاج نہیں ہوتا۔
– آئرن اور وٹامن بی 12 سے بھرپور غذائیں: ان غذائی اجزا کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
گڑ اور کھجور توانائی فراہم کر سکتے ہیں، لیکن انہیں آئرن کی کمی یا خون کی کمی کا مکمل علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟
اگر معمول سے زیادہ سردی لگنے کی شکایت مسلسل برقرار رہے، یا اس کے ساتھ تھکن، چکر، سانس پھولنے، وزن میں غیرمعمولی تبدیلی یا جلد کی خشکی جیسی علامات بھی ہوں تو طبی معائنہ کروانا بہتر ہے۔
ڈاکٹر ضرورت کے مطابق خون کی مکمل جانچ (سی بی سی)، آئرن کی سطح، وٹامن بی 12 یا تھائیرائیڈ کے ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔ وٹامنز یا آئرن کے سپلیمنٹس استعمال کرنے سے پہلے کمی کی وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔
اہم بات: زیادہ سردی لگنے کی کوئی ایک مخصوص وٹامن کی کمی ذمہ دار نہیں ہوتی۔ درست وجہ کی تشخیص اور متوازن غذا اختیار کرنا اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔









