زحل کے چاند انسلیدس پر زندگی کے امکانات، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

0
9
زحل کے چاند انسلیدس پر زندگی کے امکانات، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

ویب ڈیسک: سائنسدانوں نے زحل کے چاند انسلیدس کو نظامِ شمسی میں زمین کے علاوہ زندگی کی تلاش کے لیے اہم ترین مقامات میں شامل قرار دیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق وہاں موجود انتہائی سخت ماحول کے باوجود بعض زمینی جرثومے زندہ رہنے اور نشوونما پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انسلیدس کی برفانی سطح کے نیچے نمکین پانی کا ایک وسیع سمندر موجود ہونے کے شواہد مل چکے ہیں۔ اس کے علاوہ چاند کے جنوبی قطب کے قریب برفانی دراڑوں سے پانی کے بخارات اور برف کے ذرات خلا میں خارج ہوتے ہیں۔

حالیہ تجربے میں سائنسدانوں نے ایسے جرثوموں کا جائزہ لیا جو جاپان کے سمندر کی گہرائی میں موجود ہائیڈرو تھرمل ماحول میں پائے جاتے ہیں۔ لیبارٹری میں ان جرثوموں کو انسلیدس کے سمندر سے مشابہ حالات فراہم کیے گئے۔

تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ یہ جرثومے ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو استعمال کرتے ہوئے میتھین بنانے کے عمل کے ذریعے مشکل ماحول میں بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ نتیجہ اس امکان کی حمایت کرتا ہے کہ انسلیدس کے زیرِ سطح سمندر میں بھی اسی نوعیت کی زندگی کے لیے موزوں حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

انسلیدس میں پانی کے علاوہ زندگی کے لیے اہم سمجھے جانے والے کیمیائی اجزا اور نامیاتی مرکبات کی موجودگی کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔ کیسینی خلائی مشن کے مشاہدات نے چاند کے اندرونی سمندر اور اس سے خارج ہونے والے ذرات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں، جبکہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے بھی پانی کے وسیع اخراج کا مشاہدہ کیا۔

مئی 2023 میں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے انسلیدس سے خارج ہونے والے پانی کے بخارات کا ایک بڑا فوارہ ریکارڈ کیا تھا، جو خلا میں ہزاروں میل تک پھیل رہا تھا۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ مشاہدات چاند کے اندر موجود سمندر اور اس کی سرگرمیوں کو سمجھنے میں مددگار ہیں۔

گزشتہ برسوں میں انسلیدس سے حاصل ہونے والے برفانی ذرات میں پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ اگرچہ ایسے مرکبات زندگی کی موجودگی کا براہِ راست ثبوت نہیں، تاہم یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہاں زندگی کے لیے درکار کیمیائی ماحول موجود ہوسکتا ہے۔

انسلیدس کی سطح کا درجہ حرارت انتہائی کم، تقریباً منفی 201 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی برفانی تہہ کے نیچے موجود مائع سمندر نسبتاً مختلف ماحول فراہم کرتا ہے، جہاں ہائیڈرو تھرمل سرگرمی بھی ممکنہ طور پر موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی تحقیق انسلیدس پر زندگی کی موجودگی ثابت نہیں کرتی، بلکہ صرف یہ دکھاتی ہے کہ زمین پر پائے جانے والے بعض جرثومے وہاں جیسے ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ حتمی جواب کے لیے براہِ راست مشاہدات اور مزید نمونوں کا تجزیہ ضروری ہوگا۔

اسی مقصد کے تحت مستقبل میں انسلیدس کے لیے مزید خلائی مشنز کی تجاویز زیرِ غور ہیں، جن کے ذریعے اس کے جنوبی قطب سے خارج ہونے والے مواد اور زیرِ سطح سمندر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں گی۔

سائنسدانوں کے لیے انسلیدس کی اہمیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی مقام پر مائع پانی، توانائی کے ممکنہ ذرائع اور پیچیدہ کیمیائی مرکبات کے شواہد موجود ہیں، جو اسے نظامِ شمسی میں زندگی کی تلاش کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔

Leave a reply