
اسلام آباد: ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں اکثر یہ سوال پایا جاتا ہے کہ آیا چاول کھانے سے بلڈ پریشر مزید بڑھ سکتا ہے یا نہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق چاول براہِ راست ہائی بلڈ پریشر کی وجہ نہیں بنتے، تاہم مقدار، چاول کی قسم اور مجموعی خوراک کا معیار اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سفید چاول میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اس کا گلیسیمک انڈیکس بھی نسبتاً بلند ہے، جس کے باعث اسے زیادہ مقدار میں کھانے سے خون میں شوگر تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ طویل عرصے تک ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کا ضرورت سے زیادہ استعمال وزن اور میٹابولک صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جس سے بلڈ پریشر سمیت دیگر مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو چاول مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں۔ بہتر ہے کہ چاول مناسب مقدار میں کھائے جائیں اور پلیٹ میں سبزیوں، دالوں، چنوں، پھلیوں اور مناسب پروٹین کو بھی شامل کیا جائے۔
غذائی ماہرین کے مطابق سفید چاول کے بجائے براؤن رائس، سرخ چاول یا دیگر ثابت اناج زیادہ بہتر انتخاب ہوسکتے ہیں، کیونکہ ان میں فائبر اور بعض اہم معدنیات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔
ماہرین نے نمک کے استعمال پر بھی خصوصی توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔ چاول کے ساتھ زیادہ نمک والا سالن، اچار، پاپڑ اور دیگر نمکین غذائیں بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے مسئلہ پیدا کرسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ باقاعدہ ورزش، صحت مند وزن برقرار رکھنا اور متوازن غذا بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ چاول نہیں بلکہ ان کا بے تحاشا استعمال اور مجموعی طور پر غیر متوازن غذا ہے۔ تاہم اگر کسی فرد کو ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ ذیابیطس، موٹاپا یا کوئی اور بیماری بھی لاحق ہو تو اسے اپنی غذائی ضروریات کے لیے ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا چاہیے۔









