
دن بھر کام اور مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے بعد رات کے وقت انسانی جسم بتدریج آرام کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ بعض افراد کو رات 10 بجے کے آس پاس غنودگی، آنکھوں میں بھاری پن اور تھکن محسوس ہونا اسی قدرتی عمل کا حصہ ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں ایک قدرتی اندرونی گھڑی موجود ہوتی ہے جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے۔ یہ تقریباً 24 گھنٹے کے چکر کے تحت نیند اور بیداری، جسمانی درجہ حرارت، بھوک اور دیگر کئی جسمانی افعال کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔
نیند کی تیاری کیسے شروع ہوتی ہے؟
جیسے جیسے شام کے بعد روشنی کم ہوتی ہے، جسم نیند کی تیاری شروع کر دیتا ہے۔ اس دوران میلاٹونن ہارمون کی مقدار بڑھنے لگتی ہے، جو جسم کو آرام اور نیند کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تاہم ہر فرد کے لیے نیند کا وقت ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی شخص کو جلد نیند آتی ہے جبکہ کچھ افراد دیر سے سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ عمر، روزمرہ معمولات، روشنی کی exposure اور سونے جاگنے کا شیڈول بھی اس عمل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
رات دیر سے کھانے کا اثر
سونے کے قریب بہت زیادہ یا مرغن کھانا نظامِ ہاضمہ کے لیے مشکل پیدا کرسکتا ہے۔ بعض افراد کو اس کے نتیجے میں بدہضمی، سینے کی جلن یا پیٹ میں بے آرامی محسوس ہوسکتی ہے، جو نیند کے معیار کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
اسی لیے رات کے کھانے کو سونے سے کچھ وقت پہلے مکمل کرنا اور ضرورت سے زیادہ بھاری غذا سے گریز کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔
موبائل اور اسکرین کا استعمال
رات گئے موبائل فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کا مسلسل استعمال بھی نیند کے قدرتی معمول میں خلل ڈال سکتا ہے۔ اسکرین سے حاصل ہونے والی روشنی جسم کے نیند کے لیے تیار ہونے والے نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔
ماہرین عام طور پر سونے سے پہلے روشنی کم رکھنے، ماحول پرسکون بنانے اور غیر ضروری اسکرین استعمال محدود کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ہر شخص کی باڈی کلاک مختلف ہوسکتی ہے
یہ تصور درست نہیں کہ رات ٹھیک 10 بجے ہر انسان کے جسم میں ایک مخصوص تبدیلی لازماً شروع ہوجاتی ہے۔ دراصل جسم کی اندرونی گھڑی ہر فرد میں مختلف ہوسکتی ہے اور نیند کا وقت عمر، معمولات اور طرزِ زندگی سمیت کئی عوامل سے متاثر ہوتا ہے۔
اس لیے بہتر نیند کے لیے باقاعدہ سونے اور جاگنے کا معمول، مناسب ماحول اور صحت مند طرزِ زندگی زیادہ اہم ہیں۔ رات کے وقت جسم کا آہستہ آہستہ سرگرمیوں کو کم کرکے آرام کی جانب جانا ایک قدرتی حیاتیاتی عمل ہے۔









