دنیا کے پہاڑی علاقے بڑھتے خطرات کی زد میں، گلیشیئرز اور شدید بارشیں تشویش کا باعث

0
0
دنیا کے پہاڑی علاقے بڑھتے خطرات کی زد میں، گلیشیئرز اور شدید بارشیں تشویش کا باعث

دنیا کے بلند پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث قدرتی خطرات کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے، برفانی تودے گرنے، شدید بارشوں اور پہاڑی زمین کے غیر مستحکم ہونے کے واقعات نے ماہرین کو خبردار کر دیا ہے کہ مستقبل میں پہاڑی وادیوں اور ان کے نچلے علاقوں میں آباد آبادیوں کو زیادہ پیچیدہ خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

نیپال کے شمالی علاقے میں حالیہ ایک بڑے واقعے نے اس تشویش کو مزید نمایاں کر دیا، جہاں برف، چٹان، مٹی اور پانی پر مشتمل ایک انتہائی طاقتور ریلا پہاڑی علاقے سے نیچے کی جانب آیا۔ اس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور لاپتا افراد کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے واقعات میں خطرہ صرف پانی کا نہیں ہوتا۔ جب گلیشیئر، برف اور پہاڑ کا ملبہ پانی کے ساتھ شامل ہوجائے تو یہ ریلا انتہائی تباہ کن طاقت اختیار کرلیتا ہے اور تنگ پہاڑی وادیوں میں بہت تیزی سے سفر کرسکتا ہے۔

گرم ہوتا موسم پہاڑوں کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ایک واقعے کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینے کے لیے تفصیلی سائنسی تحقیق ضروری ہے، تاہم مجموعی طور پر بڑھتا ہوا درجہ حرارت پہاڑی علاقوں کے قدرتی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔

دنیا بھر میں گلیشیئرز تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ ہمالیہ اور ہندوکش سمیت کئی پہاڑی خطوں میں برف کے ذخائر میں کمی کے باعث مستقبل میں پانی کی دستیابی اور قدرتی آفات دونوں کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

گلیشیئر کے پگھلنے سے صرف پانی کی مقدار نہیں بڑھتی بلکہ بعض حالات میں پہاڑی ڈھانچے بھی کمزور ہوسکتے ہیں۔ مستقل جمی ہوئی زمین، جسے پرما فراسٹ کہا جاتا ہے، چٹانوں اور مٹی کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے پگھلنے سے پہاڑوں کے کچھ حصے غیر مستحکم ہوسکتے ہیں اور اچانک لینڈ سلائیڈنگ یا چٹانوں کے گرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

گلیشیائی جھیلیں بھی بڑا خطرہ

پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے نتیجے میں پہاڑوں پر یا ان کے سامنے پانی کی جھیلیں بن سکتی ہیں۔ اگر ایسی جھیل کا قدرتی بند ٹوٹ جائے تو پانی انتہائی تیزی سے نیچے کی طرف بہہ سکتا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت مزید خطرناک ہوجاتی ہے جب سیلابی پانی اپنے ساتھ برف، مٹی، چٹانیں اور بڑے پتھر بھی لے آئے۔ ایسے ریلے راستے میں آنے والی آبادیوں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

شدید بارشیں خطرہ مزید بڑھا رہی ہیں

موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ بارشوں کے انداز میں بھی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ بعض پہاڑی علاقوں میں شدید بارش کے واقعات زیادہ خطرناک صورتحال پیدا کرسکتے ہیں، خصوصاً وہاں جہاں زمین پہلے ہی برف پگھلنے یا دیگر عوامل کے باعث کمزور ہوچکی ہو۔

شدید بارش زمین کے کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کو متحرک کرسکتی ہے، جبکہ برف اور چٹانوں کے غیر مستحکم حصے بھی اچانک نیچے آ سکتے ہیں۔

خطرہ صرف نیپال تک محدود نہیں

ماہرین کے مطابق گلیشیئرز اور پرما فراسٹ والے دنیا کے کئی پہاڑی خطے اس بدلتی صورتحال سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ یورپ کے الپس، جنوبی امریکا کے اینڈیز اور شمالی امریکا کے الاسکا جیسے علاقوں میں بھی گلیشیئر سے متعلق سیلاب، برفانی تودوں اور پہاڑی عدم استحکام کے واقعات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

پیشگی اطلاع کا نظام اہم

ماہرین کے نزدیک ایسے خطرات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں، تاہم جدید نگرانی اور بروقت وارننگ سسٹم جانی نقصان کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے گلیشیئرز، برفانی جھیلوں اور پہاڑی ڈھانچوں میں آنے والی تبدیلیوں کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔ تاہم ہزاروں گلیشیئرز اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں کی مسلسل نگرانی ایک بڑا عملی چیلنج ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں محفوظ تعمیرات، خطرناک علاقوں میں آبادی کی بہتر منصوبہ بندی، جدید سیٹلائٹ نگرانی اور تیز رفتار الرٹ سسٹمز پر سرمایہ کاری ناگزیر ہوگی۔

دنیا کے پہاڑ اگرچہ اب بھی سیاحت اور کوہ پیمائی کا مرکز ہیں، لیکن بڑھتا درجہ حرارت ان کے قدرتی نظام کو تبدیل کر رہا ہے۔ اس لیے پہاڑی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے لیے مستقبل کے خطرات کو سمجھنا اور ان سے نمٹنے کی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئی ہے۔

Leave a reply