ایک خوراک سے کولیسٹرول میں نمایاں کمی، جین تھراپی نے نئی امید پیدا کردی

0
34
ایک خوراک سے کولیسٹرول میں نمایاں کمی، جین تھراپی نے نئی امید پیدا کردی

سائنس کی دنیا میں کولیسٹرول کے علاج کے حوالے سے ایک تجرباتی جینیاتی طریقے نے امید کی نئی کرن پیدا کی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق جین ایڈیٹنگ پر مبنی اس علاج کی ایک خوراک کے بعد بعض مریضوں میں خراب کولیسٹرول (LDL) کی سطح میں تقریباً نصف کمی دیکھی گئی، جبکہ اس کا اثر ایک سال بعد بھی برقرار رہا۔

یہ تجربہ ایسے افراد پر کیا گیا جنہیں شدید کولیسٹرول کا مسئلہ تھا اور روایتی ادویات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تھے۔ تاہم تحقیق میں صرف 15 افراد شامل تھے، اس لیے ماہرین کے مطابق اسے عام علاج قرار دینے سے پہلے بڑے پیمانے پر مزید تحقیقات ضروری ہیں۔

اس تجرباتی طریقے میں CRISPR-Cas9 جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ محققین نے ANGPTL3 نامی جین کو ہدف بنایا، جو خون میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز کی مقدار کو متاثر کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق زیادہ خوراک حاصل کرنے والے چار افراد میں نتائج زیادہ نمایاں تھے۔ علاج کے تقریباً دو ماہ بعد ان کے LDL کولیسٹرول میں لگ بھگ 50 فیصد اور ٹرائی گلیسرائیڈز میں تقریباً 55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ایک سال بعد بھی دونوں میں کمی برقرار رہی، جبکہ LDL کی سطح تقریباً 53 فیصد اور ٹرائی گلیسرائیڈز تقریباً 48 فیصد کم تھیں۔

قدرتی جینیاتی تبدیلی سے حاصل ہوا خیال

محققین نے اس طریقہ علاج کے لیے ان افراد سے بھی رہنمائی حاصل کی جن میں قدرتی طور پر ANGPTL3 جین کی سرگرمی کم یا ختم ہوتی ہے۔ ایسے افراد میں عموماً کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز کی سطح کم رہتی ہے اور دل کی بیماری کا خطرہ بھی نسبتاً کم پایا گیا ہے۔

نئے تجرباتی علاج کا مقصد جین ایڈیٹنگ کے ذریعے اسی طرح کی تبدیلی پیدا کرنا ہے تاکہ جسم طویل عرصے تک خون میں چربی کی مقدار کم رکھنے میں مدد حاصل کر سکے۔

جگر کو بنایا گیا ہدف

اس علاج میں جگر کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے، کیونکہ جسم میں چکنائی اور کولیسٹرول کی تیاری اور اخراج کے کئی اہم مراحل جگر سے وابستہ ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ مخصوص عضو تک جینیاتی علاج محدود رکھنے سے جسم کے دوسرے حصوں میں غیر ضروری جینیاتی تبدیلیوں کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔

ابتدائی تجربے میں زیادہ تر مضر اثرات معمولی نوعیت کے تھے۔ بعض افراد کو انجیکشن لگنے کی جگہ تکلیف یا جلن ہوئی، جبکہ چند دیگر طبی مسائل بھی سامنے آئے۔ ایک مریض علاج کے تقریباً چھ ماہ بعد انتقال کر گیا، تاہم تحقیق سے وابستہ ماہرین کے مطابق اس کی موت اور تجرباتی علاج کے درمیان تعلق کے شواہد نہیں ملے، کیونکہ مریض پہلے ہی شدید قلبی بیماری میں مبتلا تھا۔

ابھی عام مریضوں کے لیے دستیاب نہیں

ماہرین کے مطابق موجودہ کولیسٹرول کم کرنے والی کئی ادویات بھی LDL میں نمایاں کمی لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن روزانہ دوا لینے میں عدم پابندی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اسی وجہ سے ایک مرتبہ دی جانے والی جینیاتی تھراپی مستقبل میں ایسے مریضوں کے لیے خاص طور پر اہم ثابت ہو سکتی ہے جنہیں زندگی بھر کولیسٹرول کا علاج درکار ہوتا ہے۔

تاہم اس تجربے میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ علاج کے بعد HDL، جسے عام طور پر اچھا کولیسٹرول کہا جاتا ہے، میں بھی کمی دیکھی گئی۔ ماہرین اس تبدیلی کے طویل مدتی اثرات جاننے کے لیے مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔

امریکا اور آسٹریلیا میں اب اس تجرباتی طریقہ علاج پر مزید تحقیق کی جا رہی ہے، جس میں تقریباً 40 افراد کو شامل کیا جائے گا۔ مستقبل میں بڑے کلینیکل ٹرائلز کے نتائج یہ طے کریں گے کہ یہ علاج واقعی محفوظ، مؤثر اور عام استعمال کے قابل ہے یا نہیں۔

اگر آنے والے تجربات کامیاب ثابت ہوئے تو مستقبل میں بعض شدید کولیسٹرول کے مریضوں کے لیے ایسا علاج ممکن ہو سکتا ہے جس میں روزانہ گولیاں یا بار بار انجیکشن لینے کے بجائے ایک مرتبہ جینیاتی تھراپی سے طویل مدتی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

اہم بات: یہ طریقہ علاج ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور عام مریضوں کے لیے منظور شدہ علاج کا متبادل نہیں۔

Leave a reply