دنیا کے سب سے بڑے بیٹری طیارے کی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز

0
9
دنیا کے سب سے بڑے بیٹری طیارے کی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز

سویڈش کمپنی ہارٹ ایرو اسپیس نے اپنے مکمل جسامت کے برقی تجرباتی طیارے ایکس ون کی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کرلی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ پرواز 12 اگست 2026 کو امریکی ریاست نیویارک کے پلاٹس برگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے کی گئی۔

ایکس ون نے تقریباً 27 منٹ تک پرواز کی اور اس دوران 335 میٹر، یعنی تقریباً 1100 فٹ کی بلندی حاصل کی۔ 11 ٹن سے زائد وزن رکھنے والے طیارے میں چار بیٹری سے چلنے والی برقی موٹرز نصب ہیں، جو مجموعی طور پر ایک میگاواٹ سے زیادہ طاقت پیدا کرتی ہیں۔

کمپنی کے مطابق آزمائشی پرواز میں استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً 5 ڈالر رہی۔ اس رقم میں پائلٹ، ایئرپورٹ فیس، انشورنس، بیٹری اور دیگر آپریشنل اخراجات شامل نہیں ہیں۔

ایکس ون کو مسافروں کی تجارتی پروازوں کے لیے تیار نہیں کیا گیا بلکہ اسے برقی طیاروں کی ٹیکنالوجی، موٹرز، بیٹری اور دیگر نظاموں کو حقیقی پرواز میں جانچنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہارٹ ایرو اسپیس کا اصل منصوبہ 30 نشستوں والا ES-30 علاقائی طیارہ تیار کرنا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ طیارہ مکمل برقی نظام پر تقریباً 200 کلومیٹر اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے تقریباً 800 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔

ES-30 کو بالخصوص مختصر فضائی روٹس اور چھوٹے شہروں کے درمیان سفر کے لیے متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی کا خیال ہے کہ ایسے طیارے مستقبل میں مختصر فاصلے کی پروازوں میں روایتی ایندھن پر انحصار کم کرسکتے ہیں۔

ہارٹ ایرو اسپیس نے حالیہ برسوں میں اس منصوبے کے لیے نمایاں سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ کمپنی اب ES-30 کے اگلے آزمائشی مراحل کی جانب بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں اسے تجارتی سروس میں لانے کا ہدف رکھتی ہے۔

ماہرین کے لیے اس تجربے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مکمل جسامت کے ایک بڑے، بیٹری سے چلنے والے طیارے نے پہلی مرتبہ عملی پرواز کی ہے۔ تاہم تجارتی کامیابی کے لیے بیٹری کی گنجائش، پرواز کی حد، چارجنگ انفرااسٹرکچر، لاگت اور طویل مدتی مسافر آپریشن سمیت کئی تکنیکی اور حفاظتی مراحل ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

اگر یہ ٹیکنالوجی مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب رہی تو مستقبل میں مختصر فاصلے کے فضائی سفر کے لیے کم کاربن اخراج والے برقی اور ہائبرڈ طیاروں کا استعمال بڑھ سکتا ہے۔

Leave a reply