زمین کی قدیم دنیا کا ڈیجیٹل سفر اب عام لوگوں کی دسترس میں

0
0
زمین کی قدیم دنیا کا ڈیجیٹل سفر اب عام لوگوں کی دسترس میں

سائنس دانوں نے ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو زمین کے براعظموں کی کروڑوں سال پرانی حرکت کو بصری انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ بھی دکھاتا ہے کہ موجودہ شہر ماضی میں کس مقام پر موجود تھے۔

یہ منصوبہ نیدرلینڈز کی Utrecht University کے محققین نے تیار کیا ہے، جس کی قیادت پروفیسر ڈووے فان ہنسبرگن نے کی۔ اس نظام کے ذریعے صارفین اور سائنس دان کسی بھی جگہ کی تقریباً 32 کروڑ سال پرانی جغرافیائی پوزیشن معلوم کر سکتے ہیں، جب زمین ایک ہی عظیم برِاعظم “پینجیا” کی صورت میں موجود تھی۔

محققین کے مطابق زمین کی ٹیکٹونک پلیٹیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں، جس کے نتیجے میں براعظم آہستہ آہستہ اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے کئی علاقے ماضی میں مختلف موسمی اور جغرافیائی حالات کا حصہ رہے ہیں۔

مثال کے طور پر تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ سال قبل موجودہ نیدرلینڈز کا خطہ ایک گرم اور مرطوب ماحول رکھتا تھا، جو آج کے بعض گرم خطوں سے مشابہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کا ماحول وقت کے ساتھ بڑی تبدیلیوں سے گزرتا رہا ہے۔

یہ ڈیجیٹل ماڈل “پیلوجیوگرافی” (قدیم جغرافیہ) پر مبنی ہے، جس میں قدیم براعظموں اور پہاڑی سلسلوں کی ازسرِنو تشکیل کی گئی ہے۔ اس کے لیے سائنس دانوں نے قدیم چٹانوں میں محفوظ مقناطیسی نشانات کا تجزیہ کیا، جو زمین کے ماضی کے قطبی مقامات اور براعظمی پوزیشنز کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹول کی اہمیت صرف تعلیمی نہیں بلکہ سائنسی تحقیق میں بھی ہے۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ماضی میں موسمی تبدیلیوں اور بڑے پیمانے پر حیاتیاتی معدومیت کے دوران جانداروں نے کیسے خود کو ڈھالا۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون سے علاقے سخت ماحولیاتی حالات میں جانداروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنے۔

محققین کے مطابق یہ نظام عام افراد کے لیے بھی زمین کی طویل اور حیران کن تاریخ کو سمجھنے کا ایک دلچسپ ذریعہ بن سکتا ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج کے شہر اور خطے کروڑوں سال کے سفر میں کتنی بڑی تبدیلیوں سے گزرے ہیں۔

Leave a reply