حکومت کا اچانک فیصلہ، ریفائنریز کی سرمایہ کاری خطرے میں

0
22
حکومت کا اچانک فیصلہ، ریفائنریز کی سرمایہ کاری خطرے میں

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ کار متعارف کرانے کے فیصلے نے ملک کی آئل ریفائنریز کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ نئے فارمولے کے باعث ریفائنریز کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ اربوں ڈالر مالیت کے جدید کاری منصوبوں پر بھی خدشات منڈلانے لگے ہیں۔

آئل انڈسٹری کے مطابق نئے قیمتوں کے نظام کے تحت ریفائنریز کو فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 49 روپے تک مالی نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس تبدیلی سے ملک کی موجودہ ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مجوزہ 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

صنعتی حلقوں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پرانی آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، تاہم چند ہفتوں بعد قیمتوں کا طریقہ کار تبدیل کرنے سے سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے نظرثانی شدہ طریقہ کار کی منظوری دی تھی۔

نئے طریقہ کار کے تحت ریفائنریز کو پیٹرول کی اصل درآمدی لاگت اور جنگ سے قبل کی قیمتوں کی بنیاد پر طے شدہ ایکس ریفائنری قیمت کے درمیان فرق حکومت کے حوالے کرنا ہوگا۔

ماہرین اور آئل انڈسٹری کے حلقوں کے مطابق اس فیصلے کے اثرات نہ صرف ریفائنریز کی مالی کارکردگی بلکہ مستقبل میں مقامی تیل صاف کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Leave a reply