جارحانہ سوشل میڈیا مہم، پی ٹی آئی کی مشکلات بڑھ گئیں

0
16
جارحانہ سوشل میڈیا مہم، پی ٹی آئی کی مشکلات بڑھ گئیں

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سیاسی مشکلات کے ساتھ ساتھ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے جاری ہونے والے متنازع بیانیے پر بھی اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ پارٹی کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے عمران خان کا ایک پرانا سخت بیان دوبارہ شیئر کیے جانے کے بعد سینئر رہنماؤں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے مصدقہ ایکس اکاؤنٹ پر 26 اکتوبر کو عمران خان سے منسوب ایک بیان دوبارہ شائع کیا گیا، جو دراصل 2025 میں سامنے آیا تھا۔ اس بیان میں اعلیٰ عسکری قیادت کے حوالے سے سخت تنقیدی زبان استعمال کی گئی تھی۔ تاہم اسے نئے بیان کے طور پر پیش کیے جانے کے تاثر نے پارٹی کے اندر کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں کا خیال ہے کہ اس نوعیت کی سوشل میڈیا سرگرمیاں سیاسی مفاہمت اور دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطوں کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق بعض متنازع پوسٹس پارٹی کی مرکزی قیادت، بشمول چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، کی مشاورت کے بغیر جاری کی جاتی ہیں۔

پارٹی کے ایک رہنما نے اس صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ پرانے متنازع بیان کو دوبارہ سامنے لانے کا مقصد کیا تھا اور کیا اس طرزِ عمل سے تحریک انصاف کو سیاسی فائدہ پہنچ رہا ہے یا اس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کو متعدد سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ عمران خان بدستور قید ہیں، ان کی بہنوں کی گرفتاریوں نے بھی سیاسی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں پارٹی کی حکومتی حیثیت ختم ہو چکی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں تحریک انصاف کو اپنی سیاسی حمایت برقرار رکھنے، دیگر سیاسی قوتوں سے روابط بڑھانے اور قیادت کی رہائی کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر سخت اور تصادم پر مبنی بیانات پارٹی کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرنے کی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے انتظام اور اس پر کنٹرول کا معاملہ بھی ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے۔ ماضی میں یہ اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ پارٹی اور عمران خان سے متعلق بعض اہم سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلائے جاتے ہیں اور پیغامات کی ترسیل میں عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کردار رہا ہے۔

دوسری جانب بیرسٹر گوہر علی خان نے 15 اکتوبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ تحریک انصاف عمران خان کے ذاتی ایکس اکاؤنٹ کی ملکیت یا اس پر کنٹرول کا دعویٰ نہیں کرتی۔

اس وضاحت کے باوجود پارٹی کے آفیشل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جاری ہونے والے سیاسی پیغامات کے حوالے سے انتظامی اور پالیسی معاملات واضح نہیں ہو سکے۔

تحریک انصاف کو بیرون ملک مقیم بعض یوٹیوبرز اور سیاسی تجزیہ کاروں کے ساتھ تعلقات اور پارٹی کے سیاسی بیانیے پر ان کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔

موجودہ صورتحال میں پارٹی قیادت کے سامنے ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا سخت سیاسی مؤقف اور سوشل میڈیا پر جارحانہ مہم جاری رکھنے سے سیاسی حمایت میں اضافہ ممکن ہوگا یا اس کے نتیجے میں مفاہمت، مذاکرات اور نئے سیاسی اتحادوں کے امکانات مزید محدود ہو جائیں گے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق تحریک انصاف کے لیے آنے والے دنوں میں اپنے سوشل میڈیا بیانیے، مرکزی قیادت کے فیصلوں اور سیاسی حکمت عملی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

Leave a reply