تہران کے آسمان پر پراسرار روشن شے، یو ایف او سے متعلق قیاس آرائیاں

تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں رات کے وقت آسمان پر ایک روشن اور پراسرار شے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جس کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ ڈرون، طیارہ یا کوئی اور فضائی شے تھی۔
وائرل مناظر میں ایک روشن نقطہ یا شے کو آسمان میں حرکت کرتے دیکھا جاسکتا ہے، تاہم ویڈیو کے محدود معیار اور فاصلے کا اندازہ نہ ہونے کے باعث اس کی اصل جسامت، بلندی، رفتار اور کیمرے سے فاصلہ طے کرنا ممکن نہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں۔ کچھ افراد اسے ڈرون قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض کے مطابق یہ رات کے وقت پرواز کرنے والا عام طیارہ ہوسکتا ہے۔ طیارے کی نیوی گیشن لائٹس اور کیمرے کے لینز سے پیدا ہونے والے اثرات بعض اوقات دور سے نظر آنے والی شے کو غیر معمولی شکل دے سکتے ہیں۔
ایک اور امکان روشن پتنگ یا ایل ای ڈی لائٹس سے مزین کسی تفریحی شے کا بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ان میں سے کسی بھی امکان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
اب تک ایرانی حکام کی جانب سے اس پراسرار شے کی باضابطہ شناخت سامنے نہیں آئی۔ اس لیے اسے یو ایف او، فوجی ڈرون یا کسی غیر ملکی فضائی سرگرمی سے جوڑنا فی الحال محض قیاس آرائی ہوگی۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث خطے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے۔ اسی تناظر میں تہران کے آسمان پر دکھائی دینے والی کسی بھی نامعلوم شے نے معمول سے زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔
1976 کا مشہور تہران واقعہ بھی زیرِ بحث
موجودہ ویڈیوز نے 1976 کے مشہور تہران یو ایف او واقعے کی یاد بھی تازہ کردی ہے۔ ستمبر 1976 میں تہران کے آسمان پر ایک نامعلوم روشن شے دیکھے جانے کی اطلاع ملی تھی۔
اس وقت ایرانی فضائیہ کے دو ایف-4 فینٹم جنگی طیاروں نے مبینہ طور پر اس شے کا جائزہ لینے کے لیے پرواز کی تھی۔ امریکی سرکاری ریکارڈ میں بھی اس واقعے کا ذکر موجود ہے، تاہم اس وقت نظر آنے والی شے کی حتمی شناخت نہیں ہوسکی تھی۔
موجودہ واقعے میں بھی دستیاب ویڈیوز کی بنیاد پر کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں۔ مزید واضح معلومات یا سرکاری تصدیق سامنے آنے تک پراسرار روشن شے کی شناخت ایک کھلا سوال ہی رہے گی۔









