صبح آنکھ کھلتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟

0
7
صبح آنکھ کھلتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟

ویب ڈیسک: بعض افراد کو نیند سے بیدار ہوتے ہی چند لمحوں کے لیے دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ تیز محسوس ہوتی ہے۔ اکثر صورتوں میں یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے اور کچھ دیر بعد خود ہی ختم ہوجاتی ہے، تاہم بار بار ایسا ہونے کی صورت میں اس کی وجہ جاننا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق صبح کے وقت دل کی دھڑکن بڑھنے کے پیچھے کئی عوامل ہوسکتے ہیں۔ نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، جسم میں پانی کی کمی اور کیفین کا زیادہ استعمال ان میں عام وجوہات ہیں۔

بیدار ہوتے ہی دھڑکن کیوں بڑھ سکتی ہے؟

نیند کے دوران جسم نسبتاً پرسکون حالت میں ہوتا ہے، جبکہ جاگنے کے بعد جسم کے مختلف نظام دوبارہ فعال ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر لیٹے ہوئے اچانک کھڑے ہونے سے دل کی رفتار کچھ دیر کے لیے بڑھ سکتی ہے۔

اگر دھڑکن مختصر وقت میں معمول پر آجائے اور ساتھ کوئی دوسری تشویش ناک علامت موجود نہ ہو تو عموماً یہ عارضی کیفیت ہوسکتی ہے۔

پانی کی کمی بھی وجہ بن سکتی ہے

رات بھر پانی نہ پینے کی وجہ سے صبح کے وقت جسم میں ہلکی پانی کی کمی ہوسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض افراد کو دل کی دھڑکن تیز محسوس ہوتی ہے۔

اگر اس کے ساتھ منہ خشک ہونا، زیادہ پیاس لگنا یا چکر آنا بھی ہو تو پانی کی کمی کو ایک ممکنہ وجہ سمجھا جاسکتا ہے۔

ذہنی دباؤ اور بے چینی

پریشانی اور ذہنی دباؤ بھی دل کی رفتار کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کی نیند بار بار خراب ہو یا وہ کسی فکری کیفیت میں مبتلا ہو تو بیدار ہوتے وقت دل تیز دھڑکنے کا احساس ہوسکتا ہے۔

کیفین کا زیادہ استعمال

چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس میں موجود کیفین بعض لوگوں میں دل کی دھڑکن بڑھا سکتی ہے۔ رات کے وقت ان مشروبات کا زیادہ استعمال نیند کو متاثر کرنے کے ساتھ اگلی صبح بھی اس کیفیت کا باعث بن سکتا ہے۔

ایسے افراد کچھ عرصے کے لیے کیفین کی مقدار کم کرکے دیکھ سکتے ہیں۔

ناکافی یا خراب نیند

رات دیر سے سونا، بار بار نیند کا ٹوٹنا یا مسلسل کم نیند لینا بھی جسم پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بعض لوگوں میں اس کا اظہار صبح کے وقت تیز دھڑکن کی صورت میں ہوسکتا ہے۔

اس لیے روزانہ مناسب اور باقاعدہ نیند لینا اہم ہے۔

کب طبی مسئلہ ہوسکتا ہے؟

ہر بار تیز دھڑکن کی وجہ معمولی عوامل نہیں ہوتے۔ بعض طبی مسائل، مثلاً تھائرائیڈ ہارمون کی زیادتی، دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی یا دیگر جسمانی مسائل بھی اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔

اگر دھڑکن بار بار تیز ہو، دیر تک برقرار رہے یا اس کے ساتھ وزن کم ہونا، غیر معمولی پسینہ، ہاتھوں میں کپکپاہٹ یا مسلسل بے چینی جیسی علامات بھی ہوں تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا مناسب ہے۔

فوری احتیاط کب ضروری ہے؟

اگر تیز دھڑکن کے ساتھ سینے میں درد یا دباؤ، سانس لینے میں دشواری، شدید چکر، بے ہوشی یا واضح طور پر بے ترتیب دھڑکن محسوس ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

دھڑکن تیز ہو تو کیا کیا جائے؟

بیدار ہوتے ہی دل تیز دھڑکنے لگے تو گھبرانے کے بجائے کچھ دیر بیٹھ کر آرام کریں اور پرسکون انداز میں سانس لیں۔ اچانک کھڑے ہونے کے بجائے پہلے بستر پر بیٹھیں اور پھر آہستگی سے اٹھیں۔

دن کے دوران مناسب پانی پینا، نیند کا معمول بہتر بنانا اور چائے، کافی یا انرجی ڈرنکس کا ضرورت سے زیادہ استعمال کم کرنا بھی مددگار ہوسکتا ہے۔

صبح کے وقت چند لمحوں کے لیے دل کی رفتار بڑھ جانا لازماً دل کی بیماری کی نشانی نہیں، لیکن اگر یہ کیفیت مسلسل یا بار بار پیش آئے تو خود تشخیص کرنے کے بجائے طبی ماہر سے مشورہ کرکے اصل وجہ معلوم کرنا بہتر ہے۔

Leave a reply