مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، مقصد علاقائی امن ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

0
13
مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، مقصد علاقائی امن ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد: ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں بلکہ اجتماعی دفاع، عدم جارحیت اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کسی دوسرے ملک کے ساتھ مسابقت کے لیے نہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دیگر ممالک اور عالمی اتحادوں کے ساتھ بھی اپنے الگ تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے میں شامل کسی ملک کو بیرونی حملے کا سامنا ہوا تو تینوں ممالک کی قیادت صورتحال کا جائزہ لے کر مشترکہ طور پر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔ تاہم دفاعی معاہدوں کے عملی طریقہ کار کی تفصیلات عام طور پر منظرعام پر نہیں لائی جاتیں۔

چین سے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے

چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی طویل تاریخی بنیاد رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق تینوں ممالک کے چین کے ساتھ بھی مضبوط اور مثبت روابط ہیں، اس لیے مکہ معاہدے کو کسی تیسرے ملک کے خلاف اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس تعاون کو صرف اسلامی اتحاد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بنیادی مقصد علاقائی استحکام، مشترکہ دفاع اور عدم جارحیت ہے، جبکہ مستقبل میں دیگر ممالک کی شمولیت کا فیصلہ تینوں ممالک کی قیادت کرے گی۔

امریکا، ایران کشیدگی میں پاکستان کا کردار

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات جبکہ ایران کے ساتھ پڑوسی اور برادرانہ روابط اسلام آباد کو بات چیت اور ثالثی کے لیے ایک مناسب پوزیشن فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا مقصد تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

بھارت کی دفاعی خریداری پر بھی ردعمل

بھارت کی جانب سے جدید میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ خطے میں بڑے پیمانے پر دفاعی اخراجات اور جدید ہتھیاروں کا حصول تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی قسم کی اسلحے کی دوڑ یا طاقت کے عدم توازن کا حامی نہیں، تاہم ملک کی دفاعی صلاحیتیں قومی سلامتی اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہیں۔

افغانستان میں دہشت گردی پر تشویش

افغانستان کی صورتحال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان افغان عوام اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا خواہاں نہیں۔ تاہم ان کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں پر اسلام آباد کو شدید تحفظات ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں موجود بعض دہشت گرد عناصر کو بھرتی، تربیت اور پاکستان کے خلاف سرحد پار کارروائیوں کے لیے سہولت میسر آ رہی ہے، جو پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اپنی قومی سلامتی، سرحدی تحفظ اور علاقائی امن کے لیے دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گا۔

Leave a reply