
انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان دنوں ’’بوٹوکس اسٹرپس‘‘ یا ’’رنکل پیچز‘‘ کے نام سے ایک نیا بیوٹی رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ ان مصنوعات کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بغیر کسی انجکشن یا کلینیکل ٹریٹمنٹ کے، صرف رات بھر استعمال سے چہرے کی جھریوں کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرینِ جلد کے مطابق ان دعوؤں کو مکمل طور پر درست نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیچز وقتی طور پر چہرے کو زیادہ ہموار دکھا سکتے ہیں، لیکن یہ جھریوں کے مستقل علاج کا متبادل نہیں ہیں۔
جلد کی قدرتی ساخت وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جلد کی لچک اور نمی میں کمی آتی ہے، جس کے نتیجے میں باریک لکیریں اور جھریاں نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ چہرے کے مسلسل تاثرات بھی ان علامات کو گہرا کرتے ہیں۔
مارکیٹ میں دستیاب یہ اسٹرپس عام طور پر سلیکون یا خاص کاغذی مواد سے تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں پیشانی یا آنکھوں کے اطراف جیسے حصوں پر چپکایا جاتا ہے۔ یہ جلد کی حرکت کو محدود کر کے وقتی طور پر ہموار تاثر دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان مصنوعات کو ’’بوٹوکس‘‘ کا نام محض مارکیٹنگ کے لیے دیا گیا ہے، جبکہ اصل بوٹوکس ایک طبی انجیکشن ہے جو اعصابی سگنلز کو متاثر کر کے پٹھوں کی حرکت کم کرتا ہے۔ اس کے برعکس یہ اسٹرپس صرف بیرونی دباؤ کے ذریعے جلد کو عارضی طور پر کھینچتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیچز خاص طور پر نیند کے دوران کچھ حد تک فائدہ مند ہو سکتے ہیں، کیونکہ سوتے وقت چہرے پر دباؤ اور غیر شعوری تاثرات سے بننے والی عارضی جھریاں کم ہو جاتی ہیں۔ تاہم یہ اثر مختصر مدت تک ہی رہتا ہے۔
یہ مصنوعات مختلف قیمتوں میں دستیاب ہیں، جن میں سنگل یوز اور دوبارہ استعمال کیے جانے والے دونوں آپشن شامل ہیں۔ ماہرین صحت و صفائی کے لحاظ سے ایک بار استعمال ہونے والے پیچز کو زیادہ محفوظ قرار دیتے ہیں۔
جلد کے ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ حساس جلد والے افراد میں ان پیچز کے استعمال سے الرجی، جلن یا دانوں کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر چکنی جلد میں مسام بند ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں، اس لیے محتاط استعمال ضروری ہے۔
ماہرین کا مجموعی مؤقف ہے کہ یہ اسٹرپس جھریوں کے خلاف ایک عارضی کاسمیٹک حل تو ہو سکتی ہیں، لیکن انہیں کسی بھی صورت میں مستقل یا طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔









