
پاکستان کی معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے سوشل میڈیا پر اپنی نقل اتارنے والی ایک حالیہ ویڈیو پر ناراضی کا اظہار کیا ہے، جو گزشتہ دنوں کافی وائرل ہوئی۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان سے اس معاملے پر سوال کیا گیا کہ ماضی میں فنکار ایک دوسرے کی نقلیں کرتے رہے ہیں، تو اس پر اعتراض کیوں؟ اس کے جواب میں بشریٰ انصاری نے کہا کہ وہ اپنی تعریف نہیں کرنا چاہتیں، تاہم انہوں نے جن شخصیات کی نقل کی، ان میں طاہرہ سید، نور جہاں، مسرت نذیر اور سلمیٰ آغا شامل تھیں، اور ان کے گانوں یا انداز میں کسی قسم کی بدتمیزی یا ذاتی حملہ شامل نہیں تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتی تھیں کہ کسی کی شخصیت یا ذاتی زندگی کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل بعض اوقات نقل کے نام پر ایسا مواد پیش کیا جاتا ہے جو نہ صرف غیر معیاری ہوتا ہے بلکہ اس میں احترام کا فقدان بھی نظر آتا ہے۔
بشریٰ انصاری نے مزید کہا کہ اگر کوئی ٹرانسجینڈر یا کوئی بھی فنکار خواتین کی نقل کرے تو اس میں کوئی برائی نہیں، لیکن پرفارمنس مہذب اور معیاری ہونی چاہیے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں وینا ملک نے ان کی نقل اتاری تھی جسے انہوں نے سراہا تھا کیونکہ وہ بہتر انداز میں کی گئی تھی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں ناہید اختر کی نقل کرنے کی پیشکش ہوئی تھی، مگر انہوں نے اس وقت تک انکار کیا جب تک وہ خود کو اس کے قابل نہ سمجھیں۔ بعد ازاں انہوں نے یہ نقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ فن میں مزاح اور نقل ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس میں شائستگی اور احترام برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔









