برطانیہ اور اتحادی ممالک کی اسرائیلی ای ون آبادکاری منصوبے پر ممکنہ نئی پابندیوں کی تیاری

0
12
برطانیہ اور اتحادی ممالک کی اسرائیلی ای ون آبادکاری منصوبے پر ممکنہ نئی پابندیوں کی تیاری

برطانیہ اور متعدد مغربی ممالک اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں متنازع ای ون (E1) آبادکاری منصوبے کو روکنے کے لیے نئے پابندیوں کے پیکج پر غور کر رہے ہیں۔ مجوزہ اقدامات کا مقصد ان کمپنیوں اور اداروں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو اس منصوبے میں سرمایہ کاری یا تعمیراتی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کے اندر اس حوالے سے مشاورت جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں برطانیہ، فرانس اور دیگر اتحادی ممالک مشترکہ طور پر نئی پابندیوں کا اعلان کر سکتے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے حال ہی میں یروشلم اور معالیہ ادومیم کے درمیان ہزاروں نئے گھروں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مغربی کنارے کو جغرافیائی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر سکتا ہے، جس سے مستقبل میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید کمزور ہو جائیں گے۔

برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے درجنوں ارکان نے حکومت کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں جاری صورتحال پر سخت موقف اپنایا جائے اور اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارتی روابط محدود یا ختم کیے جائیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بعض آبادکاری اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

ارکانِ پارلیمنٹ نے دیگر یورپی ممالک کی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کو بھی ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنی چاہئیں جو مقبوضہ علاقوں میں سرگرم ہیں یا آبادکاروں کے تشدد سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

برطانوی حکومت پہلے بھی بعض اسرائیلی حکام پر پابندیاں لگا چکی ہے، تاہم اس بار ممکنہ اقدامات میں کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور متعلقہ اداروں کو ہدف بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اسی دوران فرانس سمیت کئی یورپی ممالک بھی اسی نوعیت کی پابندیوں کے امکانات پر بات چیت کر رہے ہیں، جبکہ کچھ ممالک اس حوالے سے قانون سازی کا عمل شروع کر چکے ہیں۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مختلف فریقین کے درمیان بات چیت میں انسانی بحران اور جنگ بندی کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح اختلافات موجود ہیں۔

Leave a reply