برازیل کی تین معمر بہنیں طویل عمر کے راز جاننے کے لیے سائنسی تحقیق کا حصہ بن گئیں

برازیل سے تعلق رکھنے والی تین بہنیں، جن کی مجموعی عمر 316 برس بنتی ہے، طویل اور صحت مند زندگی کے عوامل جاننے کے لیے جاری ایک اہم سائنسی تحقیق کا حصہ بن گئی ہیں۔ حال ہی میں انہیں دنیا کی معمر ترین زندہ بہنوں کے گروپ کے طور پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
یہ تحقیق برازیل کی ایک یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام جاری منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے، جس میں ایسے افراد کے جینیاتی اور حیاتیاتی عوامل کا مطالعہ کیا جا رہا ہے جو 100 برس یا اس سے زیادہ عمر پانے کے باوجود نسبتاً صحت مند اور فعال زندگی گزار رہے ہیں۔
محققین کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ بعض افراد بڑھاپے میں بھی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں برقرار رکھنے میں کیوں کامیاب رہتے ہیں، جبکہ دیگر افراد کم عمری میں ہی مختلف بیماریوں اور کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں طویل العمر افراد کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے جینیاتی عناصر کی نشاندہی کی جا سکے جو بیماریوں سے تحفظ اور عمر میں اضافے سے تعلق رکھتے ہوں۔
تحقیق میں شامل تین بہنوں کی عمریں بالترتیب 109، 104 اور 103 برس ہیں۔ وہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں رہائش پذیر ہیں اور ایک دوسرے کے قریب رہ کر خاندانی روابط کو مضبوط رکھتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایک ہی خاندان کے متعدد افراد کا غیر معمولی عمر تک پہنچنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جینیاتی عوامل اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم سماجی تعلقات، خاندانی تعاون اور مثبت طرزِ زندگی بھی اس میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
بہنوں کا کہنا ہے کہ ان کی طویل عمر کا راز سادہ زندگی، جسمانی سرگرمی اور قدرتی خوراک میں پوشیدہ ہے۔ ان کے مطابق بچپن میں کھلی فضا میں کھیل کود، دریا میں تیراکی اور تازہ غذا کا استعمال روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔
محققین مستقبل میں 100 برس یا اس سے زائد عمر کے سینکڑوں افراد کو تحقیق میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ طویل عمر اور بہتر صحت کے درمیان تعلق کو مزید واضح طور پر سمجھا جا سکے۔









