بارش کی آواز بیجوں کو جگانے لگی، نئی تحقیق کا انکشاف

0
5
بارش کی آواز بیجوں کو جگانے لگی، نئی تحقیق کا انکشاف

سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ زمین میں دبے ہوئے بیج بارش کے قطروں کی آواز پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے اگنے کی رفتار نمایاں طور پر تیز ہو سکتی ہے۔
امریکی تعلیمی ادارے Massachusetts Institute of Technology (ایم آئی ٹی) کے محققین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے Scientific Reports میں شائع ہوئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، بیج نہ صرف روشنی، نمی اور درجہ حرارت بلکہ آواز جیسی ماحولیاتی محرکات پر بھی ردعمل دے سکتے ہیں۔
تجربات کے دوران چاول کے تقریباً 8 ہزار بیجوں کو مختلف حالات میں رکھا گیا۔ کچھ بیجوں کو بارش کے قطروں جیسی مصنوعی آوازوں کے سامنے رکھا گیا، جبکہ دیگر کو خاموش ماحول میں رکھا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ آواز سننے والے بیجوں کی اگنے کی رفتار 30 سے 40 فیصد تک زیادہ تھی۔
ماہرین کے مطابق اس عمل میں بیج کے اندر موجود ننھے ذرات، جنہیں Statoliths کہا جاتا ہے، اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ذرات عام طور پر کششِ ثقل کو محسوس کر کے پودے کی نشوونما کی سمت کا تعین کرتے ہیں، تاہم آواز کی لہریں انہیں حرکت میں لا کر بیج کے اندر حیاتیاتی عمل کو تیز کر دیتی ہیں۔
جب بارش کا قطرہ زمین یا پانی سے ٹکراتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والی آواز کی لہریں بیج تک پہنچ کر ان ذرات کو متحرک کرتی ہیں، جو بیج کے لیے ایک سگنل کا کام کرتی ہیں کہ اب اگنے کے لیے سازگار حالات موجود ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت زرعی شعبے میں نئی راہیں کھول سکتی ہے، اور مستقبل میں اس بات پر مزید تحقیق کی جائے گی کہ آیا دیگر قدرتی آوازیں بھی پودوں کی نشوونما پر اسی طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔

Leave a reply