ایک جھوٹی پوسٹ، اسرائیل اور امریکا میں ہلچل! ایرانی ایٹمی دعوے نے تہلکہ مچا دیا

0
10
ایک جھوٹی پوسٹ، اسرائیل اور امریکا میں ہلچل! ایرانی ایٹمی دعوے نے تہلکہ مچا دیا

ایک غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹ نے چند گھنٹوں میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی سطح پر جاری بحث کو نئی سمت دے دی۔ بھارتی ایکس اکاؤنٹ سے سامنے آنے والے ایک مبینہ بیان کو اسرائیلی اور امریکی حلقوں میں بھی شیئر کیا گیا، حالانکہ اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی معتبر ثبوت موجود نہیں تھا۔
رپورٹس کے مطابق 5 اگست کو ایک بھارتی اکاؤنٹ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی سے منسوب ایک بیان تصاویر کے ساتھ پوسٹ کیا۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود رہنے تک اپنے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یہ دعویٰ تیزی سے مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک پہنچا۔ ایک دوسرے بھارتی اکاؤنٹ نے اسے ہندی میں شیئر کیا، جس کے بعد ایک اسرائیلی اکاؤنٹ نے بھی اسے آگے بڑھایا۔ بعد ازاں اسرائیلی میڈیا میں اس دعوے کو ایران کے جوہری عزائم کے مبینہ اعتراف کے طور پر پیش کیا گیا۔
معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے بھی اس پوسٹ کو شیئر کیا۔ اسی روز وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی ایک تقریر میں اس دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے مؤقف کی تائید کے طور پر پیش کیا۔
یہی دعویٰ بعد میں امریکا تک بھی پہنچا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز سمیت بعض امریکی شخصیات اور میڈیا پلیٹ فارمز نے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ تاہم جب اس دعوے کے ماخذ اور صداقت پر سوالات اٹھے تو والٹز نے اپنی پوسٹ ایکس سے حذف کردی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایران کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی ایک اور مثال قرار دیا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق تہران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ ایران طویل عرصے سے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی اور اسرائیلی الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔
اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات کس تیزی سے عالمی سیاسی اور سیکیورٹی بیانیے کا حصہ بن سکتی ہیں۔ ایک گمنام اکاؤنٹ سے شروع ہونے والی خبر، مناسب تصدیق کے بغیر، چند گھنٹوں میں بین الاقوامی میڈیا، سیاست دانوں اور اعلیٰ حکام تک پہنچ سکتی ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حساس بین الاقوامی معاملات میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کسی بھی خبر کو معتبر ذرائع سے تصدیق کیے بغیر حقیقت سمجھنا کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

Leave a reply