لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں احتجاج شدت اختیار کرگیا، گاڑیوں کو آگ لگادی گئی

بھارتی ریاست پنجاب کے شہر پھگواڑا میں لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے طلبہ نے گرلز ہاسٹل میں ایک طالبہ سے مبینہ جنسی زیادتی کی اطلاعات پر احتجاج کیا، جو بعد ازاں ہنگامہ آرائی میں تبدیل ہوگیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاج کے دوران یونیورسٹی کی بعض املاک کو نقصان پہنچایا گیا، شیشے اور گملے توڑے گئے جبکہ کچھ گاڑیوں اور دیگر اشیا کو آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔ مظاہروں کے باعث جالندھر-پھگواڑا نیشنل ہائی وے بھی کئی گھنٹوں تک بند رہا، جسے بعد میں پولیس نے ٹریفک کے لیے کھول دیا۔
احتجاج ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب گرلز ہاسٹل کے قریب شروع ہوا۔ طلبہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ چند روز قبل ایک طالبہ کو ہاسٹل میں ایک شخص نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بعض طلبہ نے الزام لگایا کہ واقعے میں کیمپس میں کام کرنے والا ایک تعمیراتی کارکن ملوث ہوسکتا ہے۔
مظاہرین میں یہ دعویٰ بھی گردش کرتا رہا کہ متاثرہ طالبہ کو گھر بھیج دیا گیا تھا اور بعد میں اس کی روم میٹ نے دیگر طلبہ کو اس کی خودکشی کے بارے میں بتایا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
جالندھر رینج کے ڈی آئی جی نوین سنگلا کے مطابق پولیس نے طالبہ کے بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو سی سی ٹی وی ریکارڈنگ، فرانزک شواہد اور دیگر تکنیکی معلومات کا جائزہ لے گی۔
کپور تھلہ کے ایس ایس پی گورو تورا کے مطابق پولیس کو واقعے کی اطلاع پہلے سے نہیں دی گئی تھی۔ ان کے بقول ہائی وے بند ہونے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی، جہاں طلبہ کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ سے متعلق مسائل اور ایک مبینہ واقعے کے بارے میں بات سامنے آئی۔
پولیس کے مطابق بعد ازاں ستنام پورہ تھانے میں نامعلوم شخص کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 64 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ادھر جالندھر رورل کے ایس ایس پی ہرویندر سنگھ ورک نے بتایا کہ احتجاج کے دوران پولیس کی چار سے پانچ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ بعض طلبہ نے دعویٰ کیا کہ توڑ پھوڑ میں ملوث افراد یونیورسٹی کے طالب علم نہیں تھے۔
لولی پروفیشنل یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے طلبہ سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ انتظامیہ کے مطابق افواہیں پھیلائی جارہی ہیں اور کیمپس میں موجود طلبہ محفوظ ہیں۔
یونیورسٹی نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ہاسٹل یا رہائش گاہوں میں رہیں اور کسی بھی اشتعال انگیز یا خلل ڈالنے والی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔
واقعے کے بعد یونیورسٹی نے پیر سے 10 روز کے لیے کلاسز معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ مڈٹرم امتحانات بھی آئندہ اعلان تک ملتوی کردیے گئے ہیں۔








