
مراد علی شاہ نے جیکب آباد میں پسند کی شادی کے تنازع پر 100 سے زائد گھروں کو آگ لگائے جانے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر اور ڈی آئی جی لاڑکانہ سے رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کی فوری امداد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ گھروں کو کس کے حکم پر جلایا گیا اور کسی کو بھی عوام کے جان و مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
مراد علی شاہ نے درجنوں گھروں کو جلانے کے واقعے کو غیر انسانی اور ناقابلِ برداشت قرار دیا۔
پولیس کے مطابق جیکب آباد کے دو مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نے عدالت میں پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد مشتعل افراد نے گاؤں میں گھروں کو آگ لگادی۔
ایس ایس پی جیکب آباد کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ متاثرہ خاندانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مسلح افراد نے اجتماعی طور پر گاؤں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب لڑکی کے رشتے داروں نے آگ لگانے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کم عمر لڑکی کو اغوا کیا گیا تھا اور وہ اس معاملے پر قانونی کارروائی کریں گے۔









