ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی کی راہ ہموار

0
8
ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی کی راہ ہموار

برگن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ: پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور جوہری پروگرام سے متعلق بعض بنیادی نکات پر اتفاق کر لیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک عرب نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ایران نے یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کے بجائے ملک کے اندر ہی اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر امریکا ایران سے تمام افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا، تاہم مذاکرات کے دوران فریقین ایک قابلِ قبول حل تک پہنچ گئے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مختلف امور پر پیش رفت کے لیے تین الگ ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں جو جوہری معاملات، منجمد اثاثوں کی واپسی اور لبنان سے متعلق امور پر کام کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ساٹھ دنوں تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہاز معمول کے مطابق آمدورفت جاری رکھ سکیں گے اور ان پر کسی اضافی فیس یا محصول کا اطلاق نہیں ہوگا۔
پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات نے بھی مذاکراتی عمل میں معاونت فراہم کی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کی نگرانی کی۔
دوسری جانب واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران مستقبل میں اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید شفافیت اختیار کرے گا۔
اطلاعات کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے بھی معاہداتی دستاویزات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور ممکنہ کشیدگی سے بچاؤ کے لیے رابطے کا ایک مؤثر نظام قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کو محدود مدت کے لیے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام میں بینکاری، انشورنس اور بحری نقل و حمل سے متعلق سہولیات بھی شامل ہوں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کے اجرا کی تصدیق کی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان طے شدہ اہم اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور بین الاقوامی معائنہ کار مستقبل میں ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کریں گے تاکہ ایک مستقل اور جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔

Leave a reply