ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، تیل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران: ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی قومی یا سمندری اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی تیل و گیس کے مفادات کو جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود تیل اور گیس کی پیداوار سے متعلق تنصیبات اور نظام ایران کی دسترس میں ہیں اور ان میں سے کئی انتہائی حساس نوعیت کے ہیں۔
قالیباف کے مطابق ایران پر حملے کی صورت میں امریکا کو بھی ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران ماضی میں اپنی جوابی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے اور خطے میں موجود بعض امریکی فوجی اڈے اس کی مثال ہیں۔
ایرانی عہدیدار کا یہ بیان امریکی وزیر دفاع کے اس مؤقف کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کو امریکی بحری جہازوں پر حملوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔ ہیگستھ نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ کو نشانہ بنایا گیا تو امریکا ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائی کرے گا۔
دریں اثنا ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے معاشی اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ تجارتی جہاز رانی میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ہیں، اس لیے صرف ایران کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے عارضی راستے کے قیام پر ایران اور عمان کے درمیان بات چیت جاری ہے اور مذاکرات حتمی مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔
ایرانی ترجمان کے مطابق معاہدہ طے پانے کے بعد اسے عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن کے ریکارڈ میں باقاعدہ شامل کرانے کی کوشش کی جائے گی۔









