ایران جنگ میں فوجی شرکت نہیں کریں گے، جنوبی کوریا کا واضح اعلان

سیول: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جاری امریکی جنگ میں براہِ راست فوجی کردار ادا نہیں کرے گا۔
جمعے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر لی نے واضح کیا کہ جنوبی کوریا کی فوج کو مشرق وسطیٰ میں ایسی کسی کارروائی کے لیے تعینات نہیں کیا جائے گا جس کے نتیجے میں ملک جنگ کا فریق بنے۔
تاہم انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز اور خطے میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے محدود اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد جنوبی کوریا کے تجارتی جہازوں، تیل کی ترسیل اور خطے میں موجود شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا۔
جنوبی کوریا کی بحریہ پہلے ہی صومالیہ کے قریب سمندری قزاقی کے خلاف کارروائیوں کے لیے موجود ہے، تاہم حکومت نے اس موجودگی کو ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست استعمال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
صدر لی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتحادی ممالک سے ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں تعاون کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جنوبی کوریا میں بھی ایران کے خلاف فوجی تعیناتی کی تجویز کو عوامی سطح پر محدود حمایت حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
امریکا سے سرمایہ کاری معاہدہ بھی زیرِ بحث
جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملات پر بھی مذاکرات جاری ہیں۔ صدر لی کے مطابق مجوزہ سرمایہ کاری پیکیج کی بعض شرائط سیول کے لیے قابلِ قبول بنانا مشکل ہیں، تاہم دونوں ممالک کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
جنوبی کوریا نے گزشتہ برس امریکا میں 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا، جبکہ واشنگٹن نے جنوبی کوریا سے درآمد ہونے والی اشیا پر ٹیرف 15 فیصد تک لانے پر اتفاق کیا تھا۔ سرمایہ کاری منصوبے سے متعلق جنوبی کوریا کی پارلیمانی بریفنگ بھی مؤخر کی گئی ہے۔
ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ممکنہ ملاقات
صدر لی جے میونگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان ممکنہ ملاقات پر بھی بات کی۔
ان کے مطابق آنے والے مہینوں میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا امکان موجود ہے، تاہم اس کے لیے متعدد عوامل کا سازگار ہونا ضروری ہوگا۔
لی جے میونگ نے کہا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت میں دلچسپی رکھتے ہیں اور جنوبی کوریا بھی امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی جانب سے ٹرمپ کی کم جونگ اُن سے ملاقات کی خواہش پر اب تک کوئی نمایاں ردعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ اپنے معاونین سے چاہتے ہیں کہ کم جونگ اُن کے ساتھ ملاقات موسم خزاں کے دوران ہی ممکن بنانے کی کوشش کی جائے۔









