
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کے لحاظ سے خاصے سرگرم رہے، جن میں اعلیٰ سطح کے متعدد دورے اور عالمی رہنماؤں سے رابطے شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چین کا سرکاری دورہ کیا، جہاں چینی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ اس دوران اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تجارت کے فروغ پر بھی بات چیت کی گئی، جبکہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی چین کے بعد نیویارک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقات کی۔
بعد ازاں واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی سلامتی، اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف امور زیر بحث آئے۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان نے سفارتی رابطوں اور امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کیا، جسے امریکی قیادت نے بھی سراہا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ایران کے صدر، جبکہ دیگر علاقائی ممالک جیسے بحرین، کویت اور ملائیشیا کی قیادت سے بھی رابطے کیے تاکہ خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کے دورہ پاکستان کو بھی اہم قرار دیا، جس کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا نیا دور منعقد ہوا۔ اس ملاقات میں تجارت، سلامتی اور عالمی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔
بھارت کے ساتھ آبی تنازع پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے پانی کے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتا اور سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنا خطے کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ یہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے اور پاکستان اسے عالمی سطح پر مسلسل اجاگر کر رہا ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقوق اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتا رہے گا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، تعاون اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔








