ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مشاورت جاری

ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں پاکستان کی ثالثی کا کردار سامنے آگیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات پاکستان کے ذریعے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور خطے کے کسی ملک سے دشمنی نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیاں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عدم استحکام کا سبب بن رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا آیا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق گفتگو میں ایرانی ترجمان نے بتایا کہ ایران بحری آمدورفت کو محفوظ اور مؤثر بنانے کے لیے نئے طریقہ کار پر غور کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں عمان کے ساتھ مشاورت بھی جاری ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکا کو ابتدائی طور پر 14 نکاتی فریم ورک پیش کیا تھا، تاہم واشنگٹن نے اسے قبول نہیں کیا۔ بعد ازاں ایران نے اختلافات کم کرنے کے لیے نئی تجاویز بھی ارسال کیں۔
ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے مزید ترامیم پاکستان کے ذریعے تہران پہنچائی گئیں، جن پر ایرانی حکام نے غور کے بعد اپنی نئی رائے پاکستانی ثالثوں تک پہنچا دی۔
دوسری جانب بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے ایران کے مطالبات، جن میں پابندیوں کا خاتمہ، جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہے، مسترد کر دیے ہیں۔ تاہم اسماعیل بقائی نے ان خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی ایران کا حق ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ یہی مسئلہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سب سے بڑا اختلاف تصور کیا جا رہا ہے۔







