ایران-امریکہ کشیدگی میں اہم پیش رفت، سفارتی رابطوں میں تیزی

0
11
ایران-امریکہ کشیدگی میں اہم پیش رفت، سفارتی رابطوں میں تیزی

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں سفارتی کوششوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز امریکہ کے سامنے رکھ دی ہیں۔ ان تجاویز میں فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر Donald Trump وائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ہمراہ ان تجاویز کا تفصیلی جائزہ لینے والے ہیں۔ اس ممکنہ پیش رفت نے عرب ممالک میں تشویش کو جنم دیا ہے، جہاں رہنماؤں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اپنے مفادات کے تحفظ کی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اردن کے بادشاہ King Abdullah II نے کویتی وزیر خارجہ سے ملاقات میں خطے میں پائیدار امن کے لیے عرب ممالک کے کردار کو اہم قرار دیا۔ دوسری جانب قطر کے وزیر اعظم Mohammed bin Abdulrahman Al Thani نے سعودی وزیر خارجہ Faisal bin Farhan سے رابطہ کر کے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے پر زور دیا۔
متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے درمیان بھی اعلیٰ سطحی رابطہ ہوا، جس میں امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے عالمی بحری راستوں کی سلامتی پر زور دیتے ہوئے ایران کو خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ ناقابل قبول ہوگی۔
ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے اپنے حالیہ دورۂ پاکستان کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان نے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں روس کے ساتھ مشاورت بھی اہم ہے۔
جرمنی کے چانسلر Friedrich Merz نے ایرانی مذاکرات کاروں کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صورتحال پیچیدہ ہے اور امریکہ کی آئندہ حکمت عملی پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان Karoline Leavitt کے مطابق ایران کی تجاویز پر غور جاری ہے اور حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل بھی معمول پر آ سکتی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اس پیش رفت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a reply