اُجین کی تاریخی شاہی مسجد متاثر ہونے کا خدشہ، احتجاج کے بعد کارروائی مؤخر

اُجین: بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اُجین میں سڑک کو کشادہ کرنے کے منصوبے کے باعث تاریخی شاہی مسجد کے بعض حصوں کو ہٹانے کی کارروائی مقامی مسلمانوں کے احتجاج کے بعد عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق 2028 میں ہونے والے سنگھستھ میلے کے پیش نظر شہر میں سڑکوں کو وسیع کرنے اور ٹریفک و عوامی سہولیات بہتر بنانے کا منصوبہ جاری ہے۔ اسی منصوبے کے تحت شاہی مسجد کے کچھ حصے بھی متاثر ہونے ہیں۔
مجوزہ کارروائی میں مسجد کے نماز ہال کا ایک حصہ اور تقریباً 120 فٹ بلند مینار سمیت مظہر چوک شاہی کے بعض حصوں کو ہٹانا شامل ہے۔ مسجد کے امام محمد ابراہیم کے مطابق شاہی مسجد وقف کی ملکیت ہے اور تاریخی روایات کے مطابق اس کی تعمیر تقریباً چھ صدی قبل 1390 میں ہوئی تھی۔
مسجد کے باہر مقامی مسلم شہریوں نے رات بھر موجود رہ کر مجوزہ کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ سڑک کی توسیع کے لیے متبادل راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے اور مسجد کے بجائے سڑک کے دوسری جانب موجود عمارتوں کو منصوبے میں شامل کیا جائے۔
مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کمیونٹی ماضی میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنی تجارتی املاک کا کچھ حصہ فراہم کرتی رہی ہے، تاہم مسجد کے حصے کو ہٹانا ان کے لیے قابل قبول نہیں۔
صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری مسجد کے اطراف تعینات کی گئی۔ اُجین کے سپرنٹنڈنٹ پولیس پردیپ شرما کے مطابق فی الحال مسجد کے متاثرہ حصوں کو ہٹانے کا عمل روک دیا گیا ہے جبکہ حکام مسجد کمیٹی کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
معاملہ عدالت تک پہنچ گیا
شاہی مسجد سے متعلق تنازع پہلے ہی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جسٹس سندیپ این بھٹ نے 9 ستمبر کو مسماری کے نوٹس کے خلاف دائر دو درخواستیں مسترد کردی تھیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ میونسپل کارپوریشن نے قانونی طریقہ کار اختیار کیا اور متعلقہ فریقین کو اعتراضات پیش کرنے کا موقع بھی دیا۔ عدالت نے سڑک کی توسیع کے منصوبے کو عوامی مفاد سے متعلق قرار دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ اسی منصوبے کے تحت سڑک پر واقع بعض دیگر مذہبی مقامات کے حصے بھی ہٹائے گئے ہیں۔
شاہی مسجد مہاکالیشور مندر کے سامنے اور دریائے کشیپرا کے قریب واقع ہے۔ حکام کے مطابق سڑک کی توسیع اُجین ڈویلپمنٹ پلان 2035 کا حصہ ہے، جس کا مقصد شہر میں ٹریفک کی روانی اور عوامی تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔
2028 کے سنگھستھ میلے کے دوران بڑی تعداد میں زائرین کی اُجین آمد متوقع ہے، جبکہ شاہی سواری اور پیشوائی جیسے مذہبی اجتماعات کے موقع پر بھی شہر میں غیر معمولی رش ہوتا ہے۔
مسجد انتظامیہ نے ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ سے بھی رجوع کرلیا ہے، جہاں معاملے کی سماعت 28 ستمبر کو مقرر ہے۔ مسجد کمیٹی سے وابستہ افراد کے مطابق عدالت سے ریلیف نہ ملنے کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا آپشن بھی زیرِ غور ہے۔
دوسری جانب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی احتجاج کی حمایت کی ہے۔ اویسی نے اسے پُرامن احتجاج قرار دیتے ہوئے معاملے کو وقف املاک سے متعلق وسیع تر سیاسی بحث سے جوڑا ہے۔
وقف قوانین میں تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھارتی سیاسی اور قانونی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، جبکہ اویسی اس معاملے پر اپنے الگ سیاسی مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں۔









