ایران امریکا مذاکرات کی امید، عالمی منڈی میں تیل سستا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کو “آخری مرحلے” میں داخل قرار دینے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں اس وقت نیچے آئیں جب صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جلد کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 6 فیصد سے زائد کمی کے بعد 97.74 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بھی تقریباً 6 فیصد کمی کے بعد 104.62 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
اس سے قبل دن کے آغاز پر برینٹ خام تیل 110.40 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 103.48 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد سرمایہ کاروں میں وقتی اعتماد پیدا ہوا، جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں عالمی منڈی دوبارہ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کئی ہفتوں سے کشیدگی برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں محدود بحری نقل و حرکت کے باعث بھی مارکیٹ کو وقتی ریلیف ملا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے یا خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھی تو خام تیل کی قیمتیں دوبارہ 120 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث رواں برس عالمی تیل مارکیٹ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، اور چند روز قبل برینٹ خام تیل کی قیمت 126 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔









