
اکثر لوگ انڈا توڑتے وقت زردی کے ساتھ ایک سفید، باریک اور لچکدار دھاگہ نما حصہ دیکھتے ہیں۔ بعض افراد اسے خون کی رگ، گندگی یا خراب انڈے کی علامت سمجھ کر پریشان ہو جاتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سفید دھاگے کو کلازا (Chalaza) کہا جاتا ہے۔ یہ انڈے کا ایک قدرتی حصہ ہے جو پروٹین سے بنا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے انڈے کی سفیدی۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس حصے کا پروٹین زیادہ گاڑھا اور مضبوط ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دھاگے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
کلازا کا بنیادی کام انڈے کی زردی کو درمیان میں برقرار رکھنا ہوتا ہے تاکہ نقل و حرکت یا جھٹکوں کے دوران زردی چھلکے سے ٹکرا کر خراب نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تازہ انڈوں میں یہ حصہ زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سفید دھاگہ مکمل طور پر کھانے کے قابل ہے اور صحت کے لیے کسی قسم کا نقصان نہیں رکھتا۔ اس کا ذائقے پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا اور پکانے کے بعد یہ انڈے کی سفیدی میں شامل ہو جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر انڈے میں کلازا واضح اور مضبوط نظر آئے تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ انڈا نسبتاً تازہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انڈے کی سفیدی پتلی ہونے لگتی ہے اور یہ دھاگہ بھی کم نمایاں ہو جاتا ہے۔
اگرچہ کچھ لوگ ظاہری شکل کی وجہ سے اسے نکال دینا پسند کرتے ہیں، تاہم غذائی یا طبی اعتبار سے اسے ہٹانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ یہ انڈے کا ایک قدرتی اور محفوظ حصہ ہے۔








