امریکا نے ایران سے متعلق سمندری پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے حوالے سے نافذ سمندری پابندیوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ جاری کردہ بیان کے مطابق اب ایران آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں امریکی افواج کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی صدر کی ہدایت اور حالیہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے اقدامات کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سمندری ناکا بندی سے متعلق تمام آپریشنز روک دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں تجارتی اور بحری سرگرمیوں کی بحالی کی توقع ہے۔
امریکی حکام کے مطابق بحریہ کے جہاز بدستور خطے میں موجود رہیں گے تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے اور بحری راستوں کے محفوظ استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ دو ماہ کے دوران مختلف اہم امور، بشمول ایرانی جوہری پروگرام، پر مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ تاہم آئندہ مذاکراتی مراحل اور ممکنہ معاہداتی پیش رفت کے حوالے سے حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دریں اثنا عالمی توانائی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سرگرمیاں بھی بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئی ہیں۔
معاہدے سے متعلق دستیاب معلومات کے مطابق ایران کی تیل برآمدات سے متعلق بعض پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی بحالی کے اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بعض امور پر بین الاقوامی نگرانی کے تحت تعاون کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
اس پیش رفت پر مختلف ممالک اور سیاسی حلقوں کی جانب سے متنوع ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض حلقوں نے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ کچھ نے اس کے مختلف پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔







