امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف مقدمات، ٹک ٹاک نے تصفیے پر آمادگی ظاہر کر دی

0
9
امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف مقدمات، ٹک ٹاک نے تصفیے پر آمادگی ظاہر کر دی

امریکا میں سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر ممکنہ اثرات سے متعلق جاری قانونی مقدمات میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مختصر ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے ایک 15 سالہ لڑکے کی جانب سے دائر مقدمہ عدالت سے باہر حل کرنے کے لیے اصولی اتفاق کر لیا ہے، تاہم معاہدے کی حتمی شرائط ابھی طے نہیں ہوئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقدمہ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ایک 15 سالہ لڑکے نے دائر کیا تھا، جس کی شناخت قانونی تقاضوں کے باعث ظاہر نہیں کی گئی۔ درخواست گزار کے وکلا کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان بنیادی اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ حتمی معاہدہ بعد میں مکمل کیا جائے گا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق لڑکے کا مؤقف ہے کہ اس نے کم عمری میں سوشل میڈیا استعمال کرنا شروع کیا اور وقت کے ساتھ اس کا استعمال ضرورت سے زیادہ بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں اس کی نیند متاثر ہوئی اور اسے ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
اس مقدمے میں ابتدا میں ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ سمیت کئی بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو فریق بنایا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق یوٹیوب پہلے ہی مقدمہ نمٹانے پر آمادہ ہو چکا ہے، جبکہ دیگر کمپنیوں کے خلاف عدالتی کارروائی آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے۔
یہ کیس ان ہزاروں مقدمات کا حصہ ہے جن میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کے پلیٹ فارمز کی بعض خصوصیات بچوں اور نوجوانوں کو زیادہ دیر تک آن لائن رکھنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، جس کے منفی اثرات ذہنی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا کمپنیاں ان الزامات سے انکار کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کم عمر صارفین کے تحفظ اور پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف حفاظتی فیچرز اور اقدامات متعارف کرا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا میں اس نوعیت کے ہزاروں مقدمات مختلف ریاستی اور وفاقی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جن میں افراد، تعلیمی ادارے اور سرکاری ادارے بھی فریق ہیں۔

Leave a reply