امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، صدر پزشکیان کا بیان سامنے آگیا

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا مقصد ایرانی حقوق کے احترام سے متعلق امریکی عزم کا جائزہ لینا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں صدر پزشکیان نے بتایا کہ طویل اور تفصیلی مذاکرات کے بعد ایرانی پارلیمان (مجلسِ شوریٰ) کے اراکین نے مفاہمتی یادداشت کے متن کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر نے قومی مفادات کے تحفظ کیلیے اہم شقوں کی شمولیت میں مؤثر کردار ادا کیاہے، انکے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت کئی ماہ تک جاری رہنیوالے مذاکرات کا نتیجہ ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ جنگ کے خاتمے اور باضابطہ مذاکرات کے آغاز کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران تمام ممکنہ حالات اور مختلف آپشنز کے لیے تیار ہے۔
مسعود پزشکیان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اگر مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد ہو گیا تو یہ ایران کے لیے ایک قابلِ فخر دستاویز بن سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق امریکا کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دستخط کیے، جبکہ ایران کی نمائندگی ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے کی۔









