امریکا اور ایران مذاکرات میں بڑی پیش رفت، جلد اچھی خبر متوقع

0
10
امریکا اور ایران مذاکرات میں بڑی پیش رفت، جلد اچھی خبر متوقع

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں مثبت خبر متوقع ہو سکتی ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت امریکی خدشات کو کم کر سکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے، جہاں ایران نے حالیہ کشیدگی کے بعد بحری نقل و حرکت محدود کر دی تھی۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ممکنہ معاہدہ ایسے عمل کی بنیاد بن سکتا ہے جس سے دنیا کو ایرانی جوہری ہتھیاروں کے خدشات سے نجات مل سکے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے کئی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ حتمی تفصیلات پر کام جاری ہے۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ممکنہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد چند ہفتوں میں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لائی جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو 30 روز کے اندر جہازوں کی آمدورفت بحال کر دی جائے گی، تاہم آبنائے ہرمز مکمل طور پر سابقہ صورتحال میں واپس نہیں آئے گی۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ممکنہ معاہدے میں امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، ایران کے کچھ منجمد فنڈز کی رہائی اور خطے میں جنگ بندی جیسے نکات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات معاہدے کے بعد بھی مزید 60 روز تک جاری رہ سکتے ہیں، جبکہ بعض نکات پر فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت فی الحال جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مذاکرات کے تسلسل تک محدود دکھائی دیتی ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر حتمی اتفاق ابھی باقی ہے۔

Leave a reply