آخر زیادہ تر لوگ دائیں ہاتھ سے کام کیوں کرتے ہیں؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

0
0
آخر زیادہ تر لوگ دائیں ہاتھ سے کام کیوں کرتے ہیں؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

دنیا بھر میں زیادہ تر افراد روزمرہ کے کاموں کے لیے دائیں ہاتھ کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کی تعداد نسبتاً کم ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً ہر 10 میں سے 9 افراد رائٹ ہینڈڈ ہوتے ہیں، مگر اس کی اصل وجہ اب تک سائنس کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

برطانیہ کی University of Oxford سے وابستہ ماہرین کی ایک نئی تحقیق میں اس دلچسپ سوال پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق انسان کے دماغ کے مخصوص حصے اس بات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ کوئی فرد دائیں ہاتھ کو ترجیح دے گا یا بائیں ہاتھ کو۔

محققین کا کہنا ہے کہ ہاتھ کے استعمال کی ترجیح کا آغاز ماں کے پیٹ سے ہی ہو جاتا ہے اور بچپن کے دوران یہ رجحان مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق جینیاتی عوامل کے ساتھ ساتھ ماحول اور نشوونما سے جڑے عناصر بھی اس عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ انسانوں کے ارتقا، سیدھا چلنے کی صلاحیت اور بڑے دماغ کی تشکیل کا تعلق بھی ہاتھ کی بالادستی سے ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دماغ کا بایاں حصہ جسم کے دائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے اور یہی حصہ زبان اور کئی اہم ذہنی صلاحیتوں سے منسلک ہوتا ہے، اسی لیے اکثر افراد دائیں ہاتھ کو زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اگر کوئی شخص اپنے عادی ہاتھ کے بجائے دوسرا ہاتھ استعمال کرنا شروع کرے تو دماغی افعال میں بھی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

کچھ سائنسدانوں کے مطابق معاشرتی دباؤ بھی اس رجحان کی ایک وجہ ہو سکتا ہے، کیونکہ صدیوں سے زیادہ تر اوزار اور روزمرہ استعمال کی اشیا دائیں ہاتھ سے استعمال کرنے والوں کے مطابق بنائی جاتی رہی ہیں۔

اگرچہ جینز کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے والدین کے ہاں بھی اکثر دائیں ہاتھ استعمال کرنے والے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اب تک کسی ایک مخصوص جین کو اس رجحان کی بنیادی وجہ قرار نہیں دے سکے۔

2019 میں ہونے والی ایک بڑی تحقیق میں چند جینیاتی خطوں کی نشاندہی ضرور کی گئی تھی جو ہاتھ کی ترجیح سے جڑے ہو سکتے ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس میں درجنوں جینز کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق اگرچہ اس سوال کا مکمل جواب ابھی سامنے نہیں آیا، لیکن تحقیق کا سلسلہ جاری ہے اور مستقبل میں انسانی دماغ اور جسم کے اس دلچسپ تعلق کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

Leave a reply