آٹھ بچوں کے باپ امین عبداللہ کی بہادری نے سب کو اشکبار کر دیا

0
5
آٹھ بچوں کے باپ امین عبداللہ کی بہادری نے سب کو اشکبار کر دیا

امریکی شہر سان ڈیاگو میں واقع ایک مسجد پر حملے کے دوران بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان قربان کرنے والے سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ کے قریبی دوست نے ان کی زندگی اور آخری لمحات کی جذباتی داستان بیان کر دی۔
امین عبداللہ کے قریبی دوست سیم حمیدہ نے ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ امین عبداللہ نہ صرف ایک ذمہ دار سیکیورٹی گارڈ تھے بلکہ آٹھ بچوں کے محبت کرنے والے والد اور معاشرے کے لیے درد رکھنے والے نہایت مخلص انسان بھی تھے۔ انہوں نے مسجد میں موجود نمازیوں اور بچوں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
سیم حمیدہ کے مطابق امین عبداللہ ہمیشہ خوش اخلاقی اور مسکراہٹ کے ساتھ لوگوں سے ملتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امین ہر وقت مثبت سوچ رکھتے اور اللہ پر کامل یقین رکھتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مسجد کے اندر ایک اسکول بھی قائم ہے جہاں ننھے بچے زیرِ تعلیم ہیں، اور واقعے کے وقت ان کا اپنا بچہ بھی وہاں موجود تھا۔ سیم حمیدہ نے کہا کہ روزانہ جب وہ یا ان کی اہلیہ بچوں کو اسکول چھوڑنے آتے تو امین عبداللہ خوش دلی سے استقبال کرتے تھے۔
انہوں نے رنجیدہ آواز میں بتایا کہ واقعے والے دن بھی امین عبداللہ نے ان کی اہلیہ کو سلام کہا تھا، مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری ملاقات ہوگی۔
سیم حمیدہ کے مطابق جب حملے کی اطلاع ملی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے بچے کی خیریت معلوم کی اور پھر فوراً امین عبداللہ کو فون کیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ صورتحال سنبھال لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امین عبداللہ جانتے تھے کہ وہ بچوں کو بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر وہ حملہ آور کے سامنے نہ آتے تو فائرنگ کرنے والا آسانی سے اوپر موجود بچوں تک پہنچ سکتا تھا۔
سیم حمیدہ نے اپنے دوست کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امین عبداللہ نے دوسروں کے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی جان دے دی، مگر اب ان کے اپنے آٹھ بچے ہمیشہ کے لیے اپنے والد سے محروم ہو گئے ہیں۔

Leave a reply